افغانستان میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر زور دیا ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ نے آج ہفتے کے روز اپنے بیان میں بتایا کہ یرغمالیوں کے امور سے متعلق امریکا کے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر اور افغانستان کے لیے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے طالبان حکومت کے وزیر خارجہ سے ان امریکی شہریوں کے بارے میں بات چیت کی جو افغانستان میں قید ہیں۔
طالبان کے مطابق امریکی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ملک اقوام کی آزادیِ انتخاب کا احترام کرتا ہے اور وہ افغان عوام پر کوئی چیز مسلط کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ محمود حبیبی جو امریکی شہریت رکھتے ہیں، افغانستان میں سب سے نمایاں زیرِ حراست امریکی ہیں، تاہم طالبان ان کی گرفتاری سے انکار کرتے ہیں۔
امریکا اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے والی طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔ یہ حکومت امریکی فوجی مداخلت کے 20 سال بعد اقتدار میں آئی تھی۔
گزشتہ مارچ میں طالبان نے ایک امریکی شہری کو رہا کیا تھا جو افغانستان میں دو سال سے زائد عرصے تک قید رہا۔ یہ رہائی امریکی ایلچی ایڈم بوہلر اور طالبان حکام کے درمیان کابل میں ہونے والی بات چیت کے بعد عمل میں آئی تھی۔ یہ شہری 2022 میں بطور سیاح کابل کے دورے پر آیا تھا جہاں اسے حراست میں لیا گیا۔
اس سے قبل امریکا نے رواں سال جنوری میں ایک افغان شہری کو رہا کیا تھا جسے امریکی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات میں سزا سنائی تھی۔ یہ رہائی 2022 سے افغانستان میں قید امریکی شہریوں کے بدلے میں عمل میں آئی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایک اور امریکی شہری محمود حبیبی، تا حال افغانستان میں زیرِ حراست ہے۔
یاد رہے کہ اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور "امارتِ اسلامیہ افغانستان" کے نام سے نئی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اس حکومت کو اب تک با ضابطہ طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ زیادہ تر ممالک انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق کے احترام اور ایک جامع حکومت کے قیام کو شرط قرار دیتے ہیں۔
فی الحال طالبان کی قیادت ہیبت اللہ اخوند زادہ کے پاس ہے اور ایک وزارتی کونسل امورِ حکومت چلا رہی ہے جس میں تحریک کے رہنما شامل ہیں۔
-
افغانستان دہشت گردوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرے: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں، ...
پاكستان -
دوحہ حملے کے بعد ... مصر میں عرب ممالک کے لیے متحدہ سکیورٹی نظام کا مطالبہ
دوحہ میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے ...
مشرق وسطی -
سوڈان میں تین ماہ کے لیے جنگ بندی کی جائے: امریکہ، مصر، سعودی عرب اور امارات کا مطالبہ
امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوڈان ...
بين الاقوامى