دوحہ حملے کے بعد ... مصر میں عرب ممالک کے لیے متحدہ سکیورٹی نظام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دوحہ میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے حملے کے بعد مصر کے سکیورٹی اور قانونی ماہرین نے اس واقعے کو خطے کے لیے سنگین اور پیچیدہ چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں فوری طور پر سعودی-مصری منصوبہ جو حال ہی میں عرب لیگ نے منظور کیا ہے، اسے نافذ کرنا ضروری ہے۔ یہ منصوبہ علاقائی سکیورٹی اور تعاون کے لیے ایک قانونی اور عملی دائرہ کار فراہم کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر کام کرے اور خطے کے حساس حالات کا جواب دے۔

ماہرین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ عرب ممالک ایک مشترکہ دفاعی نظام یا فوجی طاقت قائم کریں تاکہ قومی سکیورٹی اور علاقائی مفادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سابق مصری انٹیلی جنس افسر، لیفٹیننٹ جنرل محمد رشاد نے کہا کہ عرب ممالک کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بیرونی خطرے یا مداخلت سے بچا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی منصوبہ بندی جاری رکھے گا، اور ممکن ہے کہ غزہ اور دیگر عرب ممالک میں حملے بڑھائے، اس لیے عرب ممالک کی فوری اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر محمد محمود مہران، پروفیسر آف انٹرنیشنل لاء نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عرب دنیا کو ایک متحدہ سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے۔ انھوں نے 1950 کی عرب مشترکہ دفاعی معاہدے کو قانونی دائرہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی ایک عرب ملک پر حملہ تمام عرب ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور فوری اور مشترکہ ردعمل ضروری ہے۔

ڈاکٹر مہران نے بتایا کہ عرب سکیورٹی نظام میں مشترکہ دفاع، بیرونی جارحیت کا مقابلہ، علاقائی خود مختاری کی حفاظت، غیر ارادی مداخلت کی روک تھام اور اہم وسائل اور پانی کے راستوں کی حفاظت شامل ہو گی۔ یہ نظام بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 اور آٹھویں باب کے مطابق ہو گا اور بنیادی مقصد دفاع اور امن کی ضمانت ہے، نہ کہ جارحیت۔ عالمی مثالیں جیسے نیٹو اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی معاہدے اس کی قانونی اور عملی افادیت کو ثابت کرتی ہیں۔

حملے کے روز اسرائیل نے دوحہ میں رہائشی کمپاؤنڈ کو اس وقت ہدف بنایا جب حماس کے اعلیٰ رہنما بشمول خلیل الحیہ، امریکہ، مصر اور قطر کے ثالثی کوششوں کے تحت جنگ بندی کے امکانات پر بات کر رہے تھے۔ حماس نے کہا کہ حملہ ناکام ہوا اور اس کے وفد کا کوئی بھی رکن ہلاک نہیں ہوا البتہ چھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں خلیل الحیہ کا بیٹا، ان کے دفتر کے سربراہ اور تین ساتھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں