اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے منگل کو قطر میں حماس قیادت پر قاتلانہ حملے کا حکم دینا ایک بڑا جوا ثابت ہوا جو الٹا انہی پر بھاری پڑ گیا۔ نیتن یاہو یہ امید رکھتے تھے کہ وہ حماس کے سینیئر رہنماؤں کو قتل کر کے "فتح کا اعلان" کریں گے اور دو سالہ جنگ کے بعد حماس کو جھکنے پر مجبور کر دیں گے، مگر حملہ ناکام رہا اور دوحہ میں امریکی جنگ بندی و قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پر غور کرنے والے رہنما محفوظ رہے۔
یہ ناکام کارروائی نیتن یاہو کے لیے ایک اور دھچکا بنی، جن کی عالمی ساکھ پہلے ہی غزہ میں تباہی اور انسانی المیے کے باعث شدید متاثر تھی۔ فضائی حملے نے قطر کو مشتعل کر دیا، جو امریکا کا اہم اتحادی اور جنگ کے دوران مرکزی ثالث رہا ہے۔ اس کارروائی سے عرب دنیا میں اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ ابھرا۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہوا اور جنگ بندی کی کوششیں خطرے میں پڑ گئیں، جس سے غزہ میں زیرِ حراست تقریباً بیس اسرائیلی قیدیوں کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
تاہم نیتن یاہو کسی پسپائی کے موڈ میں نظر نہیں آئے۔ ماہرین کے مطابق اگر حملے میں حماس کی اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جاتی تو نیتن یاہو کو فتح کے اعلان کا موقع مل سکتا تھا، مگر اب یہ امکان مزید کم ہوگیا ہے اور ان کے لیے جنگ بندی کی راہ نکالنا اپنے سخت گیر اتحادیوں کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر ہارئیل چوریف کے مطابق اسرائیل کے پاس شروع سے ہی دوحہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کا موقع تھا لیکن قطر کو ناراض کرنے کے خدشے سے گریز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے ذریعے اسرائیل نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مذاکراتی راستہ ترک کر چکا ہے اور دوحہ کے ساتھ "بات چیت کی نہر جلا دی گئی ہے"۔ یاد رہے کہ قطر نے ماضی میں دو جنگ بندیوں میں ثالثی کی تھی جن کے نتیجے میں 148 یرغمالیوں کی رہائی ہوئی، جبکہ اسرائیلی فوج براہِ راست صرف آٹھ کو زندہ چھڑا سکی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جو عام طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں، اس حملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ "بہت نا خوش" ہیں۔ انھوں نے قطر کو یقین دلایا کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا، تاہم کسی ممکنہ اقدام یا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔
اس کے برعکس نیتن یاہو نے قطر کو مزید دھمکایا کہ اگر دوحہ حماس کی قیادت کو پناہ دیتا رہا تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے لیے پیغام واضح ہے "دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں ہم تم تک نہ پہنچ سکیں۔"
-
ہم اپنی سلامتی کے تحفظ اور خود مختاری کے قیام کے لیے پرُعزم ہیں: قطر
شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے واشنگٹن میں وینس اور روبیو سے ملاقات کی
مشرق وسطی -
موساد نے دوحہ میں کارروائی سے انکار کیوں کیا ؟ قطر حملے میں اس کی غیر موجودگی کی تفصیلات
اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے قطر کے دار الحکومت دوحہ میں حماس کے ...
مشرق وسطی -
اسلامی سربراہی اجلاس اسرائیل کی بزدلانہ جارحیت کے خلاف عرب یکجہتی کو اجاگر کرے گا : قطر
غزہ میں جنگ بندی کی مذاکراتی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر کے ...
مشرق وسطی