دو بار حملے کا نشانہ بننے کے بعد "صمود فلوٹیلا" تونس سے غزہ روانہ

ہم غزہ کے باشندوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دنیا نے انھیں نہیں بھلایا : گریٹا تونبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بین الاقوامی امدادی بیڑہ "صمود فلوٹیلا" کئی بار کی تاخیر کے بعد آخرکار آج پیر کے روز تونس سے غزہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کا مقصد اسرائیلی محاصرہ توڑنا اور ایک انسانی راہ داری کھولنا ہے تاکہ جنگ سے تباہ حال علاقے تک مدد پہنچ سکے۔

سوئیڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تونبرگ نے روانگی سے قبل شمالی تونس کی بندرگاہ بنزرت میں کہا "ہم غزہ کے باشندوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دنیا نے انھیں نہیں بھلایا ... چونکہ حکومتیں اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہیں، اس لیے ہمارے پاس خود قدم اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"

بارسلونا (اسپین) سے آنے والی تقریباً بیس کشتیاں بندرگاہ بنزرت پہنچیں اور پھر پیر کی صبح روانہ ہو گئیں۔ کمیٹی کی رکن یاسمین آکار نے انسٹاگرام پر کشتیوں کی تصاویر شائع کرتے ہوئے لکھا "غزہ کا محاصرہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم یکجہتی، وقار اور انصاف کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔"

یہ کشتیاں اسپین سے تونس کے ساحلی شہر سیدی بوسعید کے راستے بنزرت پہنچی تھیں۔ بیڑے کا استقبال یکجہتی کے اجتماعات سے کیا گیا۔ منتظمین نے بتایا کہ پچھلے ہفتے لگاتار دو راتوں کو دو کشتیوں پر ڈرون سے حملے ہوئے، اور ان کے مناظر بھی جاری کیے گئے۔ دوسرے حملے کے بعد تونسی حکام نے اسے "منظم حملہ" قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا۔

فرانسیسی رکن پارلیمان ریما حسن جو فلسطینی نژاد ہیں، انھوں نے خبر رساں ادارے فرانس پریس سے کہا کہ انھیں "یقیناً مزید حملوں کا خدشہ ہے"۔ ریما کے مطابق "ہم مختلف امکانات کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔"

بیڑے کی روانگی بار بار ملتوی ہوتی رہی، کبھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کبھی بعض کشتیوں کی تیاری میں تاخیر کے سبب اور کبھی خراب موسم کی وجہ سے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں