ستترویں پرائم ٹائم ایمی ایوارڈز اتوار کو سیاسی بیانات کے ایک پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گئے جب ہالی ووڈ کے متعدد ستاروں نے غزہ میں انسانی بحران کو نمایاں اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے آواز بلند کی۔
روایتی فلسطینی کوفیہ رومال لپیٹے ہوئے ہسپانوی اداکار جیویئر بارڈیم نے ایوارڈ کے ریڈ کارپٹ سے گذرتے ہوئے غزہ میں جاری "نسل کشی" کی مذمت کی۔
بارڈیم نے بین الاقوامی ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ سکالرز کے اعلامیے کا حوالہ دیا کہ تنازعہ نسل کشی کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر "تجارتی اور سفارتی پابندیاں" عائد کرے۔
انہوں نے فلمی کارکنان برائے فلسطین کے عہد کی بھی حمایت کا اظہار کیا جس کی ان سینکڑوں صنعتی پیشہ ور افراد نے حمایت کی ہے جو ایسے اسرائیلی فلمی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر رہے ہیں جن پر جنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
بارڈیم نے کہا، "بائیکاٹ کا نشانہ ادارے ہیں، افراد نہیں۔" انہوں نے مزید کہا، ثقافتی اداروں اور عوامی شخصیات کی جانب سے خاموشی اس کی تعمیل کے مترادف ہے۔
میور تھیٹر کے اندر اسرائیل پر تنقید جاری رہی۔
"ہیکس" کے لیے کامیڈی میں شاندار معاون اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والی ہانا آئنبینڈر نے اپنی تقریر کا اختتام "آزاد فلسطین" کے نعرے پر کیا:
ان کے پیغام پر سامعین نے زوردار تالیاں بجائیں۔
آئنبینڈر نے اپنے گاؤن پر آرٹسٹس فار سیزفائر کا ایک سرخ پن بھی پہنا ہوا تھا۔ ایوارڈ شوز، پریمیئرز اور تقریبات کے دوران کئی مشہور شخصیات نے یہ علامت اپنائی ہے۔
'دی وائٹ لوٹس' کے نامزد فنکاروں ایمی لو ووڈ اور نتاشا روتھ ویل کے ساتھ ساتھ 'ایبٹ ایلیمنٹری' کے کرس پرفیٹی بھی پن پہنے ہوئے نظر آئے۔
'ٹو مچ' اور 'ہیکس' سٹار میگ سٹالٹر کو ایک بیگ کے ساتھ دیکھا گیا جس پر"سیز فائر!" کے الفاظ درج تھے۔
"لوگوں اور امن کے لیے اپنی بات پر قائم رہنا اہم ترین ہے۔ ہمیں اپنے پلیٹ فارمز کا استعمال کرنا ہے۔ اگر آپ اپنا استحقاق استعمال نہیں کر سکتے تو ان بڑی تقریبات میں موجودگی کا کیا مقصد ہے؟" انہوں نے ریڈ کارپٹ انٹرویو میں کہا۔
بارڈیم اور آئنبینڈر کی طرح ایوارڈ شو میں اور کئی لوگ تھے جو فلم ورکرز فار فلسطین کے عہد کے 1,300 سے زیادہ دستخط کنندگان میں شامل تھے۔
ایمیز غزہ کے بگڑتے ہوئے حالات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جہاں بین الاقوامی ایجنسیوں نے خوراک، پانی اور طبی سامان کی شدید قلت سے خبردار کیا ہے۔
نسل کشی کے علمبرداروں کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن نے اس ماہ کے اوائل میں غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نسل کشی قرار دیا تھا جس سے عالمی رہنماؤں پر کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
بات کرنے والے کئی فنکاروں کے لیے اس رات کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ خاموش رہنے سے انکار بھی تھا۔
بارڈیم نے ریڈ کارپٹ پر کہا، "ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔"
-
غزہ میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکراتی جمود توڑنے کی نئی امریکی کوشش
اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں ...
مشرق وسطی -
نیتن یاھو کی غزہ پر حکمت عملی بے نقاب، اسرائیلی فوجی قیادت لاعلم
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے غزہ پر فوجی ...
بين الاقوامى -
غزہ کے عوام بہتر مستقبل کے حق دار ہیں:امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے پیر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ...
بين الاقوامى