بدن بولی کی ماہر نے ملانیا ٹرمپ کی بڑے ہیٹ پہننے کی وجہ بتا دی
امریکی خاتون اول کا برطانیہ کے دورے میں بڑے بڑے ہیٹ پہننا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ "چھپنا" چاہتی ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے بڑے ہیٹ پہننا شروع کر رکھے ہیں، جو ان کے چہرے کا ایک بڑا حصہ چھپا دیتے ہیں، جس نے دیکھنے والوں کی حیرت پر مبنی مختلف تجزیات کو جنم دیا ہے۔ برطانیہ کے حالیہ سرکاری دورے کے دوران بھی انہوں نے بڑا ہیٹ پہن رکھا تھا جس نے سوشل میڈیا پر مختلف آراء کو جنم دیا۔
اسی سلسلے میں باڈی لینگویج کی ماہر کا کہنا ہے کہ ملانیا ٹرمپ کا برطانیہ کے دورے کے دوران ایسے بڑے ہیٹ پہننا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ "اپنے آپ کو چھپانا چاہتی ہیں"۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچپن سالہ بیگم ملانیا بدھ کو اپنے شوہر کے ہمراہ برطانیہ کے شاہی خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچیں، جہاں ان کی نفیس اور شاندار شخصیت نے سب کو متوجہ کیا۔
ملانیا نے کریسٹین ڈیور کی گہری سرمئی سادہ مگر سٹائلش سکرٹ پہن رکھی تھی ،جو کمر پر چوڑی اور گھٹنوں کے نیچے تک پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے ڈیور کی ڈیزائن کردہ ایک بڑے کناروں والی بنفشی اون کی ٹوپی پہن رکھی تھی، جس نے ان کی آنکھوں کو چھپا رکھا تھا۔
برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق، باڈی لینگویج کی ماہر جودی جیمس(Judy James) کا خیال ہے کہ ملانیا ٹرمپ نے یہ دلکش ٹوپی اس لیے پہنی تاکہ ایک نفیس تاثر قائم رہے اور ساتھ ہی اپنے شوہر کے اہم موقع کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
اپنے خصوصی انٹرویو میں جودی جیمس نے کہا: "میں بہت پرجوش ہوں یہ جاننے کے لیے کہ ملانیا نے اس طرح کی ٹوپی کیوں پہنی، جیسا کہ انہوں نے صدارتی حلف برداری کے موقع پر پہنی تھی، جس کا ڈیزائن اس قدر بڑا ہے کہ چہرہ مکمل طور پر چھپ جاتا ہے۔ ایک ایسی خاتون کے لیے جو اپنی خوبصورتی کے لیے جانی جاتی ہے، یہ انداز بالکل واضح طور پر چھپنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔
اس نے مزید کہا کہ شاہی خاندان کی خواتین عام طور پر فلائینگ ڈش نما ٹوپی کو پسند کرتی ہیں، مگر وہ ہمیشہ اسے تیز زاویے پر پہن کر اپنے چہرے کو مکمل طور پر دکھانے کو ترجیح دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "ملانیا کی بدن بولی اس دورے میں گذشتہ شاہی دورے کے مقابلے میں زیادہ پختگی اور پر اعتماد تھی، لیکن ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ اپنی آمد کے وقت ایک پراسرار اثر قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، جیسے کہ وہ اپنے شوہر کی حمایت اور مدد کے لیے موجود ہیں، نہ کہ خود اس موقع کی مرکزی شخصیت بننے کے لیے۔"
ملانیا نے بڑے ہیٹ اور سادہ سکرٹ کے ساتھ اپنے سنہرے بالوں کو ایک نفیس جوڑے میں باندھا ہوا تھا، اور انھوں نے گھر واپس آنے تک ہیٹ نہیں اتارا۔ وہ اپنے شوہر، شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کے ساتھ ونڈسر کے باغ میں چلتے ہوئے اونچی ایڑی کے جوتوں میں بھی خوب توازن برقرار رکھے ہوئے تھیں۔ میزبانوں کے ساتھ انہوں نے تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تاکہ وکٹوریہ محل کے باہر کنگ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا سے ملاقات کر کے سرکاری طور پر دورے کا آغاز کیا جا سکے۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک نفیس سوٹ پہنا، لیکن انہوں نے اپنی ٹائی کے انتخاب میں ملانیا کے رنگوں کے انتخاب کی طرف اشارہ کیا۔ سوشل میڈیا پر ملانیا کے ہیڈ کور کے انتخاب پر جنون سا چھا گیا، اور بہت سے صارفی
ن نے سابقہ ٹویٹر یعنی X پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے جزوی طور پر لکھا: "حقیقت میں، اس ہیٹ کے ساتھ آپ ملانیا کا آدھا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتے۔ جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ ہیٹ کا کنارہ ہے، اور سب صرف اس کے ٹھوڑی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔" ایک اور نے تبصرہ کیا: "مجھے ملانیا کا ہیٹ پسند نہیں، اس سے چہرہ دیکھنا مشکل ہے۔"
ایک صارف نے کہا: "میں حیران ہوں کہ ملانیا نے اپنے چہرے پر گہرا رنگ اور گہری ہیٹ کیوں پہنا ہوا ہے؟"
لیکن یہ پہلی بار نہیں جب ملانیا ایک چوڑے کناروں والے ہیٹ کے ذریعے کوئی پیغام دیتی نظر آئیں۔ جنوری میں بھی انھوں نے اپنے شوہر کی حلف برداری کی تقریب میں نیوی کلر کا بڑا ہیٹ پہن رکھا تھا، جس کے کنارے چوڑے اور اوپر سے ہموار تھے اور اس کے کنارے سفید تھے، جسے ایرک جاویٹس نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ ٹوپی بہت مشہور ہوئی، اور بہت سے لوگ مذاق میں کہنے لگے کہ انہوں نے اسے اس لیے پہنا تاکہ ٹرمپ کو چومنے سے بچا جا سکے، کیونکہ جب ٹرمپ جھک کر انہیں بوسہ دینا چاہتے تھے، تو وہ اپنے گال تک پہنچ نہیں پائے کیونکہ ہیٹ نے راستہ روک دیا تھا۔
تاہم، ہیٹ کے ڈیزائنر ایرک جاویٹس نے "ABC News سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیٹ اصل میں "سادہ" اور "کلاسیک" ہونا چایئے تھا۔ انہوں نے اس ڈیزائن کے پیچھے کچھ سیاسی مقاصد بھی بتائے اور وضاحت کی: "میرا خیال ہے کہ یہ پروٹوکول کا لحاظ رکھتی تھی اور کسی حد تک بہت نفیس اور سادہ نظر آتی تھی۔" انہوں نے مزید کہا: "یہ وقت کچھ احتیاط اور ضبط نفس کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ زیادہ محتاط اقدار کی طرف ایک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔" جاویٹس نے بتایا کہ یہ مکمل طور پر ہاتھ سے بنائی گئی تخلیق ہے، جس میں صرف 8 فیصد سلائی مشین سے کی گئی۔