"غزہ میں نسل کشی" کے ڈانڈے روانڈا قتل عام سے ملتے ہیں: ناوی پیلے
یو این تحقیق کار کے مطابق تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو ایک گروپ کے طور پر غزہ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے
اقوامِ متحدہ کی تحقیق کار ناوی پیلے (Navi Pillay) نے رواں ہفتہ اسرائیل پر "غزہ میں نسل کشی" کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے ڈانڈے روانڈا کے قتلِ عام سے ملتے ہیں۔ "میں امید کرتی ہوں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب اسرائیلی رہنما اپنے اس جرم کی پاداش میں سزا ضرور بھگتیں گے۔"
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ناوی پیلے اپنے ملک میں جج کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ 1994 میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے لئے تشکیل دیے گئے یو این تحقیقاتی ٹرابیونل کی سربراہ اور انسانی حقوق کے لیے یو این ہائی کمشنر کے عہدے پر ذمہ داریاں ادا کر چکی ہیں۔
ناوی پیلے نے اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ انصاف کی فراہمی ایک "طویل اور سست رو" کام ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کو ایک انٹرویو میں انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کے سرخیل نیلسن مینڈیلا کا ایک بیان نقل کرتے ہوئے کہا "کہ انصاف جب تک مل نہ جائے، اس کا حصول ناممکن لگتا ہے۔"
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "کہ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرفتاریاں اور مقدمات نامکمن الحصول بات نہیں رہے گی۔"
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے الگ ناوی پیلے کی سربراہی میں قائم آزاد بین الاقوامی کمیٹی نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ "غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب ہو رہا ہے،" تاہم اسرائیل اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والے تحقیق کاروں کی یہ متفقہ رائے ہے "کہ اسرائیلی صدر إسحاق ہرتصوغ، وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلانٹ اسرائیلی اہلکاروں کو "اجتماعی نسل کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔
اسرائیل نے رپورٹ اور اس میں اخذ کیے گئے نتائج کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "غلط اور مبہم" قرار دیا ہے
لیکن ناوی پیلے کے مطابق روانڈا اور غزہ کے واقعات میں واضح مماثلتیں موجود ہیں۔ روانڈا میں کم سے کم آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر اعتدال پسند ٹوٹسی یا ہوٹو نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
ناوی پیلے نے بتایا کہ روانڈا عالمی ٹرابیونل کے سربراہ کے طور پر انہیں عام شہریوں کی تعذیب اور قتل کی جو ریکارڈ شدہ ویڈیو دکھائی گئیں، وہ ساری زندگی ان کے اثرات سے نکل نہیں سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں وہی انداز اور اسلوب دکھائی دیتا ہے جو روانڈا میں دیکھنے کو ملا تھا"۔
ناوی کے بقول روانڈا میں نسل کشی کا ہدف ٹوٹسی قبیلہ تھا۔ تمام شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ غزہ میں بھی فلسطینیوں کو گروپوں کی شکل میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی رہنماؤں نے بیانات دیے جن میں فلسطینیوں کو "جانور" کہا گیا، جو اس بیان کی یاد دلاتا ہے جو روانڈا میں نسل کشی کے دوران استعمال ہوا تھا جب ٹوٹسی قبیلے کو "کیڑے" قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں صورتوں میں نشانہ بنائے گئے افراد سے "انسان ہونے کا حق چھین لیا گیا جو دراصل یہ پیغام تھا کہ "انہیں مارنے میں کوئی حرج نہیں"۔
بہت ہی تکلیف دہ
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے پہلے ہی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلانٹ کے خلاف جنگی جرائم کے شبہ میں وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔
ناوی پیلے نے کہا کہ احتساب کی ضمانت آسان نہیں ہوتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پاس اپنے فیصلے یا وارنٹ پر عمل درآمد کرانے کے لیے خصوصی اہلکار یا پولیس فورس بھی نہیں ہوتی۔
تاہم، انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عوامی مطالبات اچانک تبدیلی لا سکتے ہیں، جیسا کہ خود ان کے اپنے وطن [جنوبی افریقہ] میں ہوا تھا۔
انہوں نے کہا: "میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میری زندگی میں نسل پرستی ختم ہو جائے گی۔"
ناوی پیلے کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ مشکل مقدمات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز پر عمل درآمد کرنے والی حکومت کے دوران، اپنی بھارتی نژاد شناخت کے باوجود عدالتی عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے جج بن گئیں۔
اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں، انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکنوں اور سیاسی قیدیوں کے وکیل کے طور پر کام کیا، پھر روانڈا کی عدالت اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں خدمات انجام دیں، اور بعد میں 2008 سے 2014 تک اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں۔
83 سالہ ناوی پیلے نے چار سال قبل خاص طور پر ایک مشکل کام سنبھالا، جب انہوں نے نئی قائم شدہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کی قیادت قبول کی، جس کا کام مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی چھان بین کرنا تھا۔
ناوی پیلے اور ان کے کمیٹی کے ساتھیوں کو جانبداری اور یہود دشمنی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جن کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں، جبکہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک مہم نے واشنگٹن سے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججز، فلسطینی غیر سرکاری تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کی غزہ میں صورتحال سے متعلق ماہر پر بھی کیا گیا۔
شدید دباؤ کے تناظر میں ناوی پیلے سمجھتی ہیں ان کی ٹیم کے لیے سب سے مشکل کام ملنے والی ویڈیو شواہد دیکھنا تھا۔
انھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور فوج کی طرف سے ڈاکٹروں کو ان کے کپڑے اتارنے کے مناظر کی ویڈیوز دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔
ناوی پیلے نے کہا کہ کمیٹی بعد میں غزہ میں مبینہ خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی فہرست کا مسودہ تیار کرنے اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کی ممکنہ "سازش" کی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
لیکن یہ کام ان کی جانشین کے سپرد کیا جائے گا، کیونکہ ناوی پیلے اپنی عمر اور صحت کے مسائل کی وجہ سے نومبر میں کمیٹی چھوڑ رہی ہیں۔
اس سے پہلے، انہوں نے کہا کہ ان کا ویزہ نیویارک کے سفر کے لیے تیار ہے تاکہ وہ اپنی رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کر سکیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اب تک میں نے ویزے کی منسوخی کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا۔
-
اسرائیلی اندازے کے مطابق غزہ سے 4 لاکھ افراد کی نقل مکانی ... اسپتال "تباہی کے دہانے پر"
یورومیڈیٹرینیئن آبزرویٹری کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں تقریباً 8 لاکھ فلسطینیوں کا ...
بين الاقوامى -
تل ابیب : غزہ جنگ کے سب سے کٹر حامی مذہبی یہودی قانون کے مطابق فوجی خدمات دینے سے انکاری
غزہ میں جنگ کی انتہائی شدت کے باوجود اسرائیل کے مذہبی انتہا پسند اور کٹر یہودیوں ...
مشرق وسطی -
مصری وزیر خارجہ نےامریکی ایلچی کو غزہ میں جبری انخلا کےاسرائیلی منصوبوں کےخطرات سےآگاہ کیا
مصری وزیرِ خارجہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا
مشرق وسطی