مصری وزیر خارجہ نےامریکی ایلچی کو غزہ میں جبری انخلا کےاسرائیلی منصوبوں کےخطرات سےآگاہ کیا

مصری وزیرِ خارجہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی نے جمعرات کے روز اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکا جانا نہایت ضروری ہے۔ انھوں نے جبری انخلا سے متعلق اسرائیلی منصوبوں کو نہایت خطرناک قرار دیا۔

یہ بات عبد العاطی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان آج ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں سامنے آئی۔ یہ رابطہ غزہ کی صورت حال اور ایرانی جوہری معاملے پر جاری مشاورت کے سلسلے میں ہوا، تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ یہ تفصیلات مصری وزارتِ خارجہ کے بیان میں بتائی گئیں۔

بیان کے مطابق دونوں شخصیات نے غزہ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر عبد العاطی نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کے عوام شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ خطے میں عدم استحکام کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے اور براہِ راست علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

وزیر عبد العاطی نے زور دے کر کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی زمین سے بے دخل کرنے کی کوئی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق جبری انخلا براہِ راست فلسطینی مسئلے پر کاری ضرب ہے اور اس کی مکمل نفی کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصر کسی بھی بہانے یا عنوان کے تحت اس کی قطعی مخالفت کرتا ہے اور اس کا کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا فلسطینی عوام کو اپنی زمین پر ہی باقی رہنا چاہیے۔

مزید برآں وزیر عبد العاطی نے جنگ بندی کے فوری نفاذ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے، انسانی امداد غزہ تک پہنچ سکے اور خطے میں استحکام بحال ہو۔

بیان کے مطابق مصری وزیر اور امریکی ایلچی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات کی۔ اس دوران ایرانی جوہری معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر 9 ستمبر کو قاہرہ میں ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد، جو اسرائیلی حملے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی بحالی کا پہلا معاہدہ تھا۔

وزیر عبد العاطی نے امریکی ایلچی کو ایران کے ساتھ ہونے والے تازہ ترین رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں، اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے طریقہ کار کو مؤخر کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں