تل ابیب : غزہ جنگ کے سب سے کٹر حامی مذہبی یہودی قانون کے مطابق فوجی خدمات دینے سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں جنگ کی انتہائی شدت کے باوجود اسرائیل کے مذہبی انتہا پسند اور کٹر یہودیوں نے عدالتی فیصلے کے بعد بھی فوج میں لازمی بھرتی سے مسلسل عملاً انکار کر رکھا ہے۔ ایسے انتہا پسند کٹر یہودیوں کو فوج نے خط لکھ لکھ کر ہزاروں کی تعداد میں بھیجے ہیں تاکہ وہ لازمی فوجی خدمات کے لیے حاضر ہوں ۔ جن میں سے بعض کے مسلسل انکار کی وجہ سے فوج انہیں گرفتار کر کے فوجی گاڑیوں میں لے جا رہی تھی تو فوجی گاڑیوں پر انتہا پسند کٹر یہودیوں نے حملہ کر دیا اور ایک کو چھڑوا کر فرار کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

خیال رہے یہ انتہا پسند کٹر اور مذہبی یہودی اسرائیلی کابینہ کے ان انتہا پسند ارکان کے ووٹر سمجھے جاتے ہیں جن کی سموٹریچ اور بین گویر کے نام نمایاں ہیں جو غزہ جنگ کو کسی بھی صورت ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لکن وہ اپنے انتہا پسند کٹر مذہبی حامیوں کو بچانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔

خیال رہے ان مذہبی انتہا پسند کٹر یہودیوں کو ایک طویل عرصے سے فوج کے لیے لازمی خدمات سے استثناء حاصل رہا ہے لیکن ایک حالیہ عدالتی فیصلے میں استثناء کو ختم کیا جا چکا ہے۔ لیکن عدالتی حکم کے بعد بھی ان آرتھوڈوکس کٹر یہودیوں نے اس فیصلے پر عمل کر کے جنگ میں خود حصہ لینے سے انکار کیے رکھا ہے۔ البتہ پورے اسرائیل کو اور پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ میں الجھائے رکھنے کے لیے ہمہ وقت ابھارتے رہتے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد فوج نے ان انتہا پسند مذہبی یہودیوں کو کئی ایسے خط لکھے ہیں جن میں انہیں لازماً فوری فوجی خدمات کے لیے کہا گیا ہے لیکن وہ ان خطوط کو غائب کر دیتے ہیں۔

اسی لیے بدھ کے روز فوج نے ان میں سے بعض انتہا پسند یہودیوں کو لازمی فوجی خدمات کے لیے گرفتار کر لیا تاکہ ان سے جبراً غزہ میں فوجی خدمات لی جائیں اور جو پھر بھی تیار نہ ہو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔

فوجی ریڈیو سے متعلق ایک صحافی نے ان کی گرفتاریوں سے متعلق ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر شائع کی ہے جس میں گرفتاری کے بعد فوجی گاڑیوں میں ٹھونسے گئے کٹر مذہبی یہودیوں کو چھڑوانے کے لیے ان کے ساتھی فوجی گاڑیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

ان میں سے بعض فوجی گاڑیوں کے آگے جا کر بیٹھ گئے۔ کئی مظاہرین نے فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور فوجیوں پر آنسو گیس بھی پھینکی۔

اس دوران فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گرفتار کیا گیا ایک کٹر یہودی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

اسرائیل میں انتہا پسند کٹر یہودی 13 لاکھ کی تعداد میں بستے ہیں جو مجموعی آبادی کا 14 فیصد ہیں۔

ان انتہا پسند یہودیوں کی فوج میں خدمات سے اس انکار کے بعد ایسے ہزاروں ریزرو فوجی بھی دل شکستہ ہوتے ہیں جو ایک طویل عرصے سے غزہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس سے فوج کے مورال پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں