سلامتی کونسل : امریکی ویٹو نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ناکام بنا دیا

کونسل میں امریکا کی نمائندہ نے کہا کہ حماس کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور قیدویں کو رہا کرنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اُس قرارداد کو مسترد کر دیا جس میں غزہ میں جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سلامتی کونسل میں امریکا کی نمائندہ نے غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے نئی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل اور حماس کو برابر نہیں سمجھا جا سکتا"۔

انھوں نے کہا کہ "حماس کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے"۔

امریکی نمائندہ نے مزید کہا کہ "امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بھیانک تنازع کو ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے"۔

یہ قرارداد جسے سلامتی کونسل کے کُل 15 اراکین میں سے 10 منتخب اراکین نے تیار کیا تھا، اس میں حماس اور دیگر گروہوں کے قبضے میں موجود تمام قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ شامل تھا۔

اس قرارداد کو 14 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی۔

یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے تقریباً دو برس سے جاری غزہ کی جنگ کے معاملے پر سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا ہے۔

ایک یورپی سفارت کار نے کہا "امریکیوں کے لیے کچھ نہ کرنا زیادہ آسان ہو گا کیونکہ انھیں اپنی پوزیشن 14 اراکین اور عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح نہیں کرنی پڑے گی"۔

سفارت کار کا مزید کہنا تھا "اس سے فلسطینیوں کو زمینی طور پر بہت زیادہ فائدہ نہیں ملتا، لیکن کم از کم ہم یہ دکھاتے رہتے ہیں کہ ہم کوشش کر رہے ہیں"۔

امریکی ویٹو نے اس سے قبل بھی سلامتی کونسل کے باقی 14 اراکین کو مشتعل کیا تھا، جو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکامی پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں تاکہ غزہ کے شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تل ابیب پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اُس جنگ کو روکے جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ کے شراکتی ماہرین نے اگست میں تصدیق کی تھی کہ غزہ کے بعض حصوں میں قحط پڑ چکا ہے، تاہم اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ حماس امداد لوٹ لیتی ہے۔

منگل کو اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل پر غزہ میں ’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کیا، جسے تل ابیب نے ’’متعصب اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا۔

سال 2024 میں عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اُس وقت کے وزیر دفاع یوآف گالانٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں