امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجےمیں کہا ہے کہ اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس کو دوبارہ امریکہ کے حوالے نہ کیا تو "انتہائی بُری چیزیں" رونما ہوں گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس کو امریکہ کےکو واپس نہ کیا جس نے اسے تعمیر کیا تھا تو بُرے نتائج سامنے آئیں گے"۔
گذشتہ جمعرات کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اس فوجی اڈے کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا "ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں"۔ انہوں نے اڈے کے محل وقوع کو چین کے قریب ہونے کی وجہ سے اسٹریٹجک قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کو دوبارہ قبضے میں لینے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی بار وہ اس بارے میں بات کر چکے ہیں تاہم طالبان واضح طور پر اس مطالبے کو رد کر چکے ہیں۔
بگرام ایئربیس افغانستان کے صوبہ پروان کے شہر شری کار کے جنوب مشرق میں گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ کبھی افغانستان میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہوا کرتا تھا۔
یہ اڈہ سنہ2021ء میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔
گذشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "بگرام ایئربیس کو چھوڑ دینا اور افغانستان سے ہماری افواج کا انخلا بائیڈن کے دور کے ان سیاہ ترین دنوں میں سے تھا جو ہماری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا"۔