میرے مخالفین کے خلاف کارروائی کریں: ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف پر اعلانیہ زور

کیلیفورنیا کے سینیٹر اور نیویارک کی اٹارنی جنرل کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلانیہ اور واضح طور پر امریکی محکمہ انصاف پر زور دیا کہ وہ ان کے مخالفین کے خلاف کارروائی کرے۔ جبکہ ان کے اس مطالبے کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے ایجنسی کی روایتی آزادی پامال ہوئی ہے۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں "پام" سے خطاب کرتے ہوئے جو بظاہر اٹارنی جنرل پام بوندی ہیں - ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے سینیٹر ایڈم شِف اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے پر ناراضی ظاہر کی۔ یہ دونوں ڈیموکریٹس ہیں۔

شِف اور جیمز ان معدودے چند لوگوں میں شامل ہیں جن پر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ڈائریکٹر بل پلٹ نے رہن کی درخواستوں کے حوالے سے دستاویزات میں جعلسازی کا الزام لگایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، "ہم مزید تاخیر نہیں کر سکتے، اس سے ہماری شہرت اور نیک نامی ختم ہو رہی ہے۔"

اٹارنی نے مبینہ طور پر اصرار کیا کہ ان پر رہن کے فراڈ کا الزام لگانے کے لیے ثبوت ناکافی تھے جس کے بعد جمعہ کے روز ٹرمپ نے جیمز کے خلاف تحقیقات کی نگرانی کرنے والے وفاقی پراسیکیوٹر کو برطرف کر دیا۔

نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ مشرقی ضلع ورجینیا کے امریکی اٹارنی ایرک سیبرٹ نے جمعہ کو ایک ای میل کے ذریعے عملے کو اپنے استعفیٰ کے بارے میں بتایا۔

"میں نے انہیں برطرف کر دیا اور ایک بہت بڑا کیس ہے اور کئی وکلاء، اور قانونی پنڈت ایسا کہتے ہیں،" ٹرمپ نے ہفتے کے روز بظاہر جیمز کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

شِف اور جیمز کے گذشتہ سالوں میں ٹرمپ سے الگ الگ تنازعات ہوئے ہیں جو تحقیقات کا سبب بنے اور ان کے بارے میں ریپبلکن صدر کا الزام ہے کہ وہ سیاسی رسہ کشی اور انتقامی کارروائی تھے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس وقت امریکی ایوان کے رکن شِف نے صدر کے مواخذے کے پہلے مقدمے میں استغاثہ کی قیادت کی تھی جو ان الزامات پر مبنی تھا کہ انہوں نے 2020 کے انتخابات میں مداخلت کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا۔

ٹرمپ کو بالآخر سینیٹ نے بری کر دیا لیکن 2021 میں ان کا دوسری بار مواخذہ ہوا۔ اس بار یہ "بغاوت پر اکسانے" کے جرم میں ہوا جو چھے جنوری 2021 کو کانگریس پر ان کے حامیوں کے حملے سے منسلک تھی۔

ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس چھوڑ دینے کے بعد جیمز ان کے خلاف شہری فراڈ کا ایک بڑا مقدمہ لے آئیں جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اور ان کی کمپنی نے غیر قانونی طور پر اپنی دولت میں اضافہ کیا اور من پسند بینکوں سے قرضے یا انشورنس کی شرائط حاصل کرنے کے لیے جائیدادوں کی قیمت میں ہیرا پھیری کی۔

ایک ریاستی جج نے ٹرمپ کو اس مقدمے میں 464 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا لیکن بعد میں ایک اعلیٰ عدالت نے بنیادی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مالی جرمانہ ختم کر دیا۔

"انہوں نے میرا دو بار مواخذہ کیا اور مجھ پر (5 بار!) فردِ جرم عائد کی بغیر کسی جرم کے۔ تو انصاف ہونا چاہیے، اسی وقت!!!" ٹرمپ نے ہفتہ کو لکھا۔

ٹرمپ کو ایک پورن سٹار کو زبان بندی کے لیے رشوت کی ادائیگی سے متعلق 34 سنگین جرائم کا بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

مصنف ای جین کیرول کو بدنام کرنے پر اس ماہ کے شروع میں اپیل کی ایک امریکی عدالت نے ٹرمپ کے خلاف جیوری کا 83.3 ملین ڈالر کا جرمانہ برقرار رکھا جن کے خلاف وہ جنسی حملے میں ملوث پائے گئے۔

خفیہ مواد کے مبینہ غلط استعمال اور 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی کوششوں کے بارے میں ٹرمپ کے خلاف تحقیقات جاری تھیں جو گذشتہ سال ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روک دی گئیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سیبرٹ کی خالی نشست پر کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے معاون لنڈسے ہیلیگن کو نامزد کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں