ایک وفاقی جج نے پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے لیے منجمد وفاقی گرانٹس بحال کریں، یہ بات ایک عدالتی دستاویز سے معلوم ہوئی۔
اگست میں یو سی ایل اے نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی حامی مظاہروں سے نمٹنے میں ناکامی پر یونیورسٹی کی 584 ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ روک دی تھی۔
لاس اینجلس ٹائمز اور پولیٹیکو نے کہا کہ امریکی ڈسٹرکٹ جج ریٹا لِن نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ یونیورسٹی کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ بحال کی جائے۔
لِن نے اگست میں ٹرمپ انتظامیہ کو معطل کردہ وفاقی فنڈنگ کا کچھ حصہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔
جج لِن نے اپنے حکم میں کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی طرف سے گرانٹ کی غیر معینہ مدت تک معطلی ممکنہ طور پر "من مانی اور غیر متوقع" تھی۔
لِن نے حکم دیا کہ ان کے ابتدائی حکمِ امتناعی کے مطابق این آئی ایچ، محکمہ دفاع اور محکمہ نقل و حمل کے تحقیقی فنڈز بحال کیے جائیں۔ وسیع تر قانونی کارروائی کے دوران یہ حکمِ امتناعی ابتدائی تھا۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تعلیمی نظام میں شامل لیبر یونینز، فیکلٹیز اور طلباء نے گذشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ پر وفاقی فنڈز منجمد کرنے اور دیگر اقدامات پر مقدمہ دائر کر دیا جن کا مقصد ان کے مطابق تعلیمی آزادی کو سلب کرنا ہے۔
آزادی اظہار کے خدشات
انسانی حقوق کے گروپوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات سے آزادی اظہار کو نقصان پہنچا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نظام کے ایک اور کیمپس یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے نے اس ماہ کے شروع میں کہا کہ اس نے تحقیقات کے سلسلے میں حکومت کو 160 فیکلٹی ممبران اور طلباء کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
ایک وفاقی جج نے اس ماہ کے شروع میں فیصلہ دیا کہ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے دو بلین ڈالر سے زیادہ کی گرانٹ ختم کر دی تھی جو غیر قانونی تھا۔
قبل ازیں کولمبیا یونیورسٹی اور براؤن یونیورسٹی ٹرمپ حکومت کے بعض مطالبات تسلیم کر چکی ہیں۔