اسرائیل نے حوثیوں کا فائر کردہ میزائل راستے ہی میں ناکارہ بنا دیا

اسرائیلی فوج نے یمن سے داغے گئے میزائل کے وسطی اسرائیل کی جانب بڑھنے پر ایئر ڈیفنس سسٹم فعال کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح یمن سے داغا گیا ایک میزائل ہدف تک پہنچنے سے قبل ناکارہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے وسطی اسرائیل کی طرف داغا گیا میزائل روک لیا گیا ہے۔

شروع میں ملک کے مختلف حصوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے گذشتہ جمعہ کو رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے حوثیوں کی عسکری صلاحیت بالخصوص دفاعی سسٹم میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔

اخبار نے مزید لکھا: "گذشتہ چند مہینوں میں سکیورٹی اداروں نے یمن میں حوثیوں کی صلاحیتوں میں نمایاں ترقی دیکھی ہے، چاہے وہ ایرانی مہارت کے سہارے اور مقامی انجینئروں کی مدد سے جدید ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی مقامی تیاری ہو، یا پھر ان کے لیے سرنگوں کا استعمال کرکے انہیں تیار اور محفوظ کرنا۔"

اخبار نے مزید کہا: "اسرائیلی فوج نے حوثیوں کے خود مختار دفاعی ماڈل میں ترقی نوٹ کی ہے، جس میں دور دراز علاقوں میں زیرِ زمین کارخانوں اور خفیہ منصوبوں کا قیام شامل ہے۔"

اس کے برعکس، "اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس وِنگ نے حوثیوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے دو نئی یونٹس قائم کی ہیں"۔ فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے: "کہ ہم اس صورتحال تک نہیں پہنچنا چاہتے جہاں کسی دن حوثیوں کے پاس ہزاروں جدید اور عین نشانے پر لگنے والے میزائل ہوں، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن جائیں۔"

حوثی 2023 سے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کر رہے ہیں اور اُن جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں یا اس کی جانب جا رہے ہیں۔ جواباً اسرائیل یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں حملے کرتا ہے، جن میں بندرگاہیں، توانائی کے مراکز اور صنعاء کا ہوائی اڈہ شامل ہیں۔

اسی تناظر میں، حوثیوں کے مطابق، جمعرات کو اسرائیل کے صنعاء پر فضائی حملوں میں نو افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہوئے، یہ حملے اُس واقعے کے اگلے دن کیے گئے جب ایلات شہر میں حوثیوں کے ڈرون حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں