امریکہ ۔ ایران معاہدہ: سیاسی پناہ کے متلاشی 100 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی کا نادر لمحہ

ایک ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ یہ اقدام امریکہ اور ایرانی حکومت کے درمیان تعاون کا ایک نایاب لمحہ ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد سامنے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تقریباً ایک سو ایرانیوں کو ایک طیارے کے ذریعے امریکہ سے ان کے وطن واپس روانہ کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

ادھر دونوں ملکوں کے حکام ے تصدیق کی ہے کہ ان ایرانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک معاہدے کا نتیجے میں عمل میں آئی۔

موقر امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے دو ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ایک امریکہ کا چارٹر طیارہ گذشتہ پیر کی شام لوئیزیانا سے روانہ ہوا، جو آج بروز منگل کسی وقت قطر کے راستے تہران پہنچے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے سے متعلق تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ ایک امریکی عہدیدار تصدیق کی ہے کہ پرواز کی تیاری کا منصوبہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

مزید برآں، دو ایرانی عہدیداروں نے مزید بتایا کہ ملک بدر کیے گئے ایرانی شہریوں میں مرد اور خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بعض نے کئی ماہ حراستی مراکز میں گزارنے کے بعد رضاکارانہ طور پر واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر معاملات میں امریکہ میں پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، یا پھر متعلقہ افراد پناہ کے حصول کی خاطر دی گئی درخواستوں کی بابت ہونے والی عدالتی کارروائی میں جج کے سامنے پیش نہیں ہو سکے تھے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ملک بدر کیے گئے افراد کی واپسی کے عمل کو ترتیب دیتے ہوئے لوٹنے والوں کو یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ وہ ہر طرح سے محفوظ ہوں گے اور انہیں کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔"

تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان میں سے بہت سے لوگ مایوسی کا شکار تھے اور کچھ واقعی خوفزدہ بھی تھے۔

غیر معمولی تعاون

اخبار کے مطابق، یہ ملک بدری ٹرمپ انتظامیہ کے ان سب سے نمایاں اقدامات میں سے ایک ہے جو تارکینِ وطن کو حالات کی پرواہ کیے بغیر واپس بھیجنے کے لیے کیے گئے۔ رواں سال کے اوائل میں، امریکہ نے ایرانیوں کے ایک گروہ کو کوسٹاریکا اور پاناما بھی ملک بدر کیا تھا۔

ایرانی عہدیداروں کے مطابق، یہ اقدام امریکہ اور ایرانی حکومت کے درمیان تعاون کا ایک نایاب لمحہ سمجھا جاتا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت کا نتیجہ ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پہلے منظور کی گئی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی کارروائیوں نے مہاجرین کے حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے تنقید اور قانونی چارہ جوئی کی راہ ہموار کی تھی۔

واشنگٹن طویل عرصے سے ایران سے فرار ہونے والے شہریوں کو پناہ دیتی رہی ہے، جن میں سیاسی مخالفین، صحافی، وکیل اور خواتین کے حقوق کے علمبردار کارکن شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں