ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بنیاد بائیڈن نے رکھی: بلنکن کا دعویٰ
انہوں نے منصوبے پر امید کے ساتھ خدشات کا بھی اظہار کیا
سابق امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسی معاہدے سے مطابقت رکھتا ہے جس پر انہوں نے جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں عمل کیا تھا۔
"مجھے لگتا ہے کہ یہ کچھ امید دلاتا ہے۔ میں یقیناً امید کرتا ہوں کہ منصوبہ مکمل طور پر قبول، مکمل طور پر اختیار اور مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا،" بلنکن نے کہا۔
انہوں نے سابق وفاقی پراسیکیوٹر پریت بھرارا کے پوڈ کاسٹ کو بتایا، "یہ بنیادی طور پر وہ منصوبہ ہے جو کئی مہینوں میں تیار ہوا اور کم و بیش یہ آنے والی انتظامیہ کے لیے رکھا رہ گیا تھا اور مجھے بہت زیادہ خوشی ہے کہ انھوں نے اس پر عمل کیا۔"
لیکن انہوں نے منصوبے میں خطرات بھی تسلیم کیے بشمول اسرائیل کو اس بات کا تعین کرنے کی اجازت دینا کہ حالات کے تحت اس کا غزہ سے مکمل انخلاء کب ممکن ہو گا۔
بلنکن نے اسرائیل کے بارے میں کہا، "بعض ایسی بڑی خامیاں ہیں جن سے اگر وہ چاہیں تو فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔"
بلنکن نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ایک درجن بار شرقِ اوسط کا سفر کیا اور فریقین پر آخرِ کار جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل جوابی کارروائی جاری تھی۔
اسرائیل اور حماس نے بالآخر 19 جنوری کو جنگ بندی پر اتفاق کیا جو بائیڈن کا بطورِ صدر آخری دن تھا اور ٹرمپ انتظامیہ کے آنے والے ایلچی نے بھی سفارت کاری کی حمایت کی۔
لیکن مارچ میں اسرائیل نے غزہ میں بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں اور خوراک کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے جن سے سنگین انسانی حالات پیدا ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی کے بعض حصوں میں قحط کا اعلان کر دیا۔
ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو دونوں نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں اس منصوبے کی حمایت کی اور حماس کو خبردار کیا کہ اسے انکار کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
عرب اور مسلم ممالک سمیت عالمی طاقتوں نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا لیکن غزہ میں اے ایف پی کو انٹرویو دینے والے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماس خود کو غیر مسلح کرے، اس مطالبے کے پیشِ نظر یہ غیر حقیقی ہے۔