اسرائیل کے زیرِ حراست 'غیر انسانی' حالات برداشت کیے: غزہ فلوٹیلا کے سوئس کارکنان

اسرائیل کا ان الزامات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امدادی صمود فلوٹیلا کے نو سوئس ارکان اسرائیل کی طرف سے ملک بدر کیے جانے کے بعد اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے گھر پہنچے جن میں سے بعض نے الزام لگایا کہ وہ وہاں دورانِ حراست غیر انسانی حالات کا شکار تھے۔ یہ بات ان کی نمائندگی کرنے والے گروپ نے بتائی۔

اسرائیل نے نئے الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کی وزارتِ خارجہ نے قبل ازیں زیرِ حراست افراد سے بدسلوکی کی اطلاعات کو "مکمل جھوٹ" قرار دیا تھا۔

جنیوا کے سابق میئر ریمی پگانی سمیت 19 سوئس شہری فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر سوار تھے۔

ویوز آف فریڈم فلوٹیلا گروپ کے مطابق انہیں بدھ کے روز اسرائیلی افواج نے حراست میں لے لیا اور اسرائیل کی کٹزیوٹ جیل لے گئے۔

گروپ میں سے نو اتوار کی سہ پہر جنیوا واپس آئے۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا، "شرکاء نے دورانِ حراست غیر انسانی حالات اور گرفتاری اور قید کے دوران ذلت آمیز اور حقارت آمیز سلوک کی مذمت کی۔"

اسرائیل نے اتوار کے روز اصرار کیا کہ کارکنان کے قانونی حقوق کا "مکمل خیال رکھا" گیا، کوئی جسمانی طاقت استعمال نہیں کی گئی اور تمام قیدیوں کو پانی، خوراک اور بیت الخلاء تک رسائی دی گئی۔

گروپ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ زیرِ حراست افراد نے نیند سے محرومی، پانی اور خوراک کی کمی کے حالات بیان کیے اور یہ بھی کہ بعض کو مارا پیٹا، لاتیں ماریں اور پنجرے میں بند کر دیا گیا۔

ویوز آف فریڈم گروپ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے زیرِ حراست باقی ماندہ دس سوئس شہریوں کے بارے میں "سخت فکر مند" ہے۔

سوئس سفارت خانے نے قونصلر تحفظ فراہم کرنے کے لیے جیل میں قید دس سوئس شہریوں سے اتوار کو تل ابیب میں ملاقات کی۔

اس نے ایک بیان میں کہا، "حالات کے پیشِ نظر وہ تمام نسبتاً اچھی صحت میں ہیں،" اور مزید کہا کہ وہ ان کی فوری واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

ویوز آف فریڈم گروپ نے کہا کہ بعض کارکنان نے بھوک ہڑتال کر دی اور کمزور نظر آ رہے تھے۔

سویڈش مہم کار گریٹا تھنبرگ کو بھی حراست میں لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں