عراق سے شام تک ... امریکہ دہشت گردی کے انسداد میں شراکت داروں کا متلاشی
امریکی عہدے داروں نے "العربیہ" سے داعش کے خطرے کے بارے میں بات کی.
امریکہ کو گزشتہ برسوں میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے بعد داعش کے پھیلاؤ کے باعث عراق، شام اور لبنان میں پیچیدہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مواقع پر اس نے ایرانی ملیشیاؤں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان میں فضائی حملے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کا قتل شامل ہے، جبکہ کچھ مواقع پر وہ ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے ساتھ داعش کے خلاف ایک ہی محاذ پر بھی رہا۔
ان ممالک میں نمایاں سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے بعد امریکہ اب پورے خطے کے لیے ایک نیا سیاسی، سیکیورٹی اور عسکری دائرہ عمل تشکیل دے رہا ہے۔ اس کی بنیادی توجہ داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کو روکنے پر مرکوز ہے۔ بالخصوص شمال مغربی شام میں جہاں امریکی دفاعی حکام کے مطابق خطرہ سب سے زیادہ ہے۔
امریکی عہدے داروں نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ داعش کا خطرہ دو سطحوں پر ہے : ایک طرف محدود زمینی سرگرمی اور دوسری طرف ایسا ماحول جو تنظیم کی واپسی کے لیے سازگار ہے۔ یہی صورت حال شمال مغربی شام اور حراستی کیمپوں میں پائی جا رہی ہے۔
ایک امریکی عہدے دار کے مطابق واشنگٹن شراکت داری کے ذریعے کام کرنا چاہتا ہے اور شامی حکومت (احمد الشرع کی قیادت میں) کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ شام میں داعش کو محدود کرنا مستقبل میں امریکا پر حملوں کے خطرات کو کم کرے گا۔ اسی مقصد کے لیے وہ دمشق حکومت اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر رہا ہے تاکہ فریقین اور امریکا کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل طے ہو سکے۔
فوجی سطح پر امریکہ اپنی افواج کو عراقی کردستان منتقل کر رہا ہے۔ اربیل کو نیا کمانڈ سینٹر بنایا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے شامی، کرد اور عراقی فورسز کے ساتھ مل کر داعش مخالف کارروائیاں کی جا سکیں۔ عراق میں امریکی توجہ اس وقت زیادہ تر داعش کے خلاف ہے، نہ کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے پھیلاؤ پر۔ ایک امریکی ذمے دار نے کہا "ہمارا مشن داعش کے خلاف ہے، یہ صرف عراق کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ہے"۔
امریکہ کو یقین ہے کہ عراقی فورسز اب دہشت گردی کے خلاف مؤثر شراکت دار بن چکی ہیں۔ متعدد امریکی حکام نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ عراقی فورسز کے پاس ارادہ اور عملی قوت موجود ہے۔
اس کے باوجود امریکہ اور بغداد کے تعلقات میں طویل مدتی شراکت پر ہچکچاہٹ دیکھی جا رہی ہے۔ فی الحال تعلقات کو دو طرفہ بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن امریکہ جلدی میں نہ تو عراق کو "حلیف" قرار دے رہا ہے اور نہ خصوصی شراکت داری کا اعلان کر رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی شراکت اسی صورت ممکن ہے جب دونوں حکومتیں متفق ہوں۔ عراقی حکومتی حلقے امریکا سے تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں اور امریکی افواج کے انخلا کو تعاون پر مبنی نئے تعلق کا اشارہ قرار دیتے ہیں۔
امریکی حکام نے عندیہ دیا کہ وہ عبوری مرحلے میں داعش کے خلاف تعاون کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں نئے انتظامات طے کیے جا سکتے ہیں جن میں امریکہ مرکزی کردار ادا کرے گا، لیکن انحصار زیادہ تر عراقی اور شامی حکومتوں اور ان کے اداروں پر ہو گا۔ جیسے جیسے وہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے، مقامی شراکت داروں کا کردار کم ہوتا جائے گا۔
-
"اسد کی باقیات" سے پاک شام کی پہلی پارلیمنٹ؛ خواتین کی حوصلہ شکن نمائندگی
شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا پارلیمان منتخب کرنے کا عمل گزشتہ ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کی دوبارہ شام میں دراندازی؛ القنیطرہ کے دیہی علاقے سے کسان بے دخل
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے پیر کی صبح شمالی ...
مشرق وسطی -
شام : کرد ملیشیا کے سربراہ سے ٹام بیرک اور سینٹ کام چیف کی ملاقات،دمشق میں کشیدگی پر گفتگو
شام کے لیے امریکہ کے مقرر کردہ خصوصی نمائندے ٹام بیرک اور سینٹ کام کے کمانڈر ایڈم ...
مشرق وسطی