شام : کرد ملیشیا کے سربراہ سے ٹام بیرک اور سینٹ کام چیف کی ملاقات،دمشق میں کشیدگی پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

شام کے لیے امریکہ کے مقرر کردہ خصوصی نمائندے ٹام بیرک اور سینٹ کام کے کمانڈر ایڈم براڈ کوپر نے دمشق میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے بارے میں بات چیت کے لیے پیر کے روز دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا ہے۔

اس دورے کا مقصد 'ایس ڈی ایف' کے کمانڈر سے ملاقات بتائی گئی ہے تاکہ امریکی حمایت یافتہ کردوں اور شامی حکومت کے درمیان پیدا کشیدگی پر بات کر سکیں۔ ان دونوں اعلیٰ امریکی عہدے داروں کی 'ایس ڈی ایف' کے کمانڈر مظلوم عابدی سے ملاقات پوئی ہے اور تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے۔

ٹام بیرک نے اس اہم ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے ان کے خیال میں شام کو ایک موقع دینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے ویژن کے ساتھ آگے بڑھنے کی رفتار تمام اہل شام کے تعاون سے جاری رکھ سکے۔ تاکہ امن اور خوشحالی کی ایک نئی کوشش میں تمام شامی طبقات کو ساتھ ملا کر اور متحد ہو کر چلا جا سکے۔

اس ملاقات کے بعد سیریئن ڈیموکریٹک فورس کے کمانڈر مظلوم عابدی نے کہا وہ امریکی حکام سے ملنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔

'ایس ڈی ایف' کے اس کمانڈر نے مزید کہا امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کا محور شام میں سیاسی انضمام، ملکی و علاقائی سالمیت اور شامی عوام کے تمام طبقوں کے لیے ایک محفوظ ماحول بنانے کے علاوہ خطے میں داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کو یقینی بنانے کے نکات تھے۔

اس اہم ملاقات سے ایک ہفتہ قبل ایک سینئر امریکی دفاعی ذمہ دار کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اپنی ساری توجہ شام میں داعش کے خطرے پر مرکوز کر رہی ہے کیونکہ داعش نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔

امریکی دفاعی عہدے دار نے یہ بھی کہا تھا کہ شام میں امریکی فوج کے موجود رہنے کا تعلق حالات سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم ایک بات کو سمجھنا چاہیے کہ چار سے پانچ ماہ سے شام کی نئی حکومت کے ساتھ معاملات ایک خاص نوعیت کے ' سٹیٹس کو' کی حالت میں ہے۔ نیز یہ کہ نئی شامی حکومت کے ساتھ ابھی کئی اور نزاکتیں جڑی ہوئی ہیں۔ ان سب پہلوؤں کو بھی ہمیں پیش نظر رکھنا ہوگا۔

ان نزاکتوں کو شامی حکومت خود بھی دیکھ رہی ہے۔ ہم صرف یہ دیکھنے کی کوشش میں ہیں کہ امریکی افواج کے حوالے سے کوئی اور فیصلہ کرنے سے پہلے یہاں کی حکومت کو دیکھیں کہ حکومت کیسے بنتی ہے اور سلامتی کے امور کا معاملہ کیسا ہوتا ہے۔

امریکہ کے دفاعی عہدے دار نے صحافیوں کے ساتھ فون پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورس نے داعش کے خلاف شام اور عراق میں امریکی فوج کی بہت مدد کی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں امریکہ نے کردوں کے اس گروپ اور شام کی نئی حکومت کے درمیان مفاہمت کرائی تھی تاکہ شام کی نئی حکومت سب طبقوں کو ساتھ لے کر چلے۔ حتی کہ یہ طبقے بھی اس سے قبل موجودہ شامی رجیم کے خلاف تھے۔

ماہ مارچ میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت 2025 کے آخر تک کرد سول اور فوجی ڈھانچے کو مرکزی حکومت میں ضم کرنے کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا تھا۔ مگر بعد ازاں اس میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور سب کچھ رکا ہوا ہے۔

اس دوران ترکیہ جو امریکی حمایت یافتہ کردوں کی 'ایس ڈی ایف' کو ایک دہشت گرد ملیشیا سمجھتا ہے، وہ بھی یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ کرد ملیشیا کے پاس اسلحہ نہ رہے تاکہ اس کی کارروائیوں سے ترکیہ محفوظ رہ سکے اور شام کی قومی وحدت کو کوئی خطرہ نہ رہے۔

دوسری جانب اس کرد ملیشیا کے کمانڈر مظلوم عابدی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی نمائندے ٹام بیرک کے لیے شام میں مخلصانہ اور فعال کردار ادا کر کے شام میں امن لانے میں مدد دیتے رہے ہیں۔

تاہم شامی صدر الشرع کی کوشش اور ویژن لبنانی صدر کی طرح یہ ہے کہ ہتھیار صرف مملکت کی فوج کے پاس ہونے چاہییں۔ کسی دوسرے گروپ یا ملیشیا کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تاکہ ہمہ وقت ملک خطروں میں نہ گھرا رہا۔ مگر ابھی اس مطالبے کو منوانے میں احمد الشرع کو جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں