غزہ منصوبے کی اسرائیلی کابینہ سے منظوری کے بعد … آگے کیا ہو گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آج جمعے کو علی الصبح اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی منظوری کے بعد توقع ہے کہ 72 گھنٹوں کی مدت کے دوران اسرائیلی فوج متعین کردہ مقامات تک واپس چلی جائے گی۔ اسی دوران اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ بھی مکمل کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں چار روزہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پایا۔ مذاکرات میں اسرائیل اور حماس کے وفود نے شرکت کی، جب کہ مذاکرات کی سرپرستی مصر، قطر اور امریکہ نے کی اور ترکی نے بھی اس میں حصہ لیا۔

معاہدے کی دستاویز کے مطابق جنگ فوراً بند کر دی جائے گی اور فضائی، زمینی اور توپ خانے کی کارروائیاں مکمل طور پر رک جائیں گی۔ صرف محدود تعداد میں نگرانی کے طیارے رہیں گے تاکہ معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔ آج سے انسانی امداد بین الاقوامی نگرانی کے تحت داخل کی جائے گی، اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کی براہِ راست نگرانی میں امدادی قافلے غزہ پہنچیں گے اور یہ سلسلہ کم از کم 72 گھنٹے تک بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔

اسرائیلی فوج غزہ کے شمالی اور وسطی حصوں سے متعین کردہ حدود تک پسپا ہو گی اور محفوظ علاقوں میں چلی جائے گی۔ غزہ میں موجود تمام اسرائیلی قیدیوں کو اُن فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا جن کے نام فہرست میں شامل ہیں۔ یہ عمل کسی براہِ راست نشریات یا میڈیا کوریج کے بغیر خفیہ طور پر انجام پائے گا تاکہ فریقین اور عملے کی سلامتی یقینی رہے۔ اس پورے عمل کی نگرانی بین الاقوامی ریڈ کراس کرے گی اور صرف وہی ادارہ ثالثوں کو کسی ممکنہ خلاف ورزی سے آگاہ کرے گا۔ جب تک عمل مکمل نہ ہو، کسی بھی مرحلے کی تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔

حکومت کی منظوری کے بعد 72 گھنٹوں میں پہلے زندہ قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ جاں بحق افراد کی لاشیں بعد میں منتقل کی جائیں گی۔ اس دوران مصری اور قطری میڈیکل اور انجینئرنگ ٹیمیں غزہ میں داخل ہو کر راستوں کو محفوظ اور ہموار بنائیں گی۔ ایک فلسطینی عہدے دار نے بتایا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے، اس کے ساتھ اسرائیلی فوج مخصوص علاقوں سے پسپا ہو گی اور امدادی قافلوں کے لیے مزید راستے کھولے جائیں گے۔

ایک مشترکہ رابطہ مرکز قائم کیا جائے گا جس میں مصر، قطر، ترکی، امریکا، اسرائیل اور تنظیم حماس کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ مرکز 24 گھنٹے ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی کا نام بطور شریکِ نفاذ شامل کیا گیا ہے، محض مبصر کے طور پر نہیں۔

معاہدے کے نفاذ کے 72 گھنٹے بعد اسرائیل ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی شروع کرے گا جن پر طویل المدتی یا عمر قید کی سزائیں ہیں، اور تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کو نیک نیتی کی علامت سمجھے گی جو آئندہ مرحلے کی راہ ہموار کرے گا۔

امریکی مذاکرات کاروں کے مطابق اگلا مرحلہ ایک عارضی مگر طویل المدتی جنگ بندی پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران غزہ کے انتظامی امور پر مذاکرات ہوں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بدرسیان نے جمعرات کو کہا تھا کہ معاہدہ حکومت کی منظوری کے 24 گھنٹے بعد نافذ العمل ہو گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے تحت حماس کو لازم ہے کہ وہ زندہ اور مردہ تمام قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹوں کے اندر یعنی پیر کے روز تک رہا کر دے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے 24 گھنٹے بعد اسرائیلی فوج مخصوص علاقوں سے انخلا شروع کرے گی، تاہم وہ غزہ کی 53 فی صد زمین پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔

یہ منظوری اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ تمام فریقین نے مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے پچھلے ماہ منظرِ عام پر لایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں