امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں ارکان نے ان کا کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی صدر اسحق ہرتزوگ بھی موجود تھے۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کرتے ہوئے کہا کہ “یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، آج ایک عظیم دن ہے، ایک نئی شروعات کا دن”۔ اس کے بعد انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی۔
مباشر من #قناة_العربية | تغطية خاصة من العربية لعملية تبادل الأسرى بين حماس وإسرائيل تزامنا مع وصول ترمب للشرق الأوسط https://t.co/BE2o1LTcmn
— العربية (@AlArabiya) October 13, 2025
کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ’یہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ناقابلِ یقین کامیابی ہے کہ اتنی زیادہ اقوام امن کے شراکت دار کے طور پر اکٹھی ہوئی ہیں۔ آنے والی نسلیں اسے اس لمحے کے طور پر یاد رکھیں گی جب سب کچھ بدلنا شروع ہوا"۔
انہوں نے کہاکہ “ہم نے ثابت کیا ہے کہ امن کوئی خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جس پر ہم روز بروز، فرداً فرداً، قوم بہ قوم تعمیر کر سکتے ہیں"۔
ترمب يصل الكنيست لإلقاء خطاب #قناة_العربية pic.twitter.com/y173oB3f6X
— العربية (@AlArabiya) October 13, 2025
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ "غزہ کے عوام کو اب اپنی توجہ استحکام، سلامتی، عزتِ نفس اور اقتصادی ترقی کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ان کے بچے ایک بہتر زندگی حاصل کر سکیں جس کے وہ مستحق ہیں"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "یہاں تک کہ ایران کے لیے بھی دوستی اور تعاون کا ہاتھ ہمیشہ بڑھا ہوا ہے اور میرا یقین ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان امن اور باہمی احترام پروان چڑھ سکتا ہے"۔
الرئيس الأميركي دونالد #ترمب ورئيس الوزراء بنيامين نتنياهو مع عائلات الأسرى في الكنيست#العربية pic.twitter.com/6Mt2JjPSYw
— العربية (@AlArabiya) October 13, 2025
صدر ٹرمپ پیر کو ایک مختصر دورے پر اسرائیل پہنچے، یہ دورہ اس وقت ہوا جب غزہ سے کچھ اسرائیلی مغویوں کی رہائی عمل میں آئی۔ ان کی آمد سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ “غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔ بعد ازاں وہ مصر کے شہر شرم الشیخ جائیں گے جہاں وہ "امن سمٹ" یعنی امن کانفرنس کی صدارت کریں گے۔
امریکی صدارتی طیارہ جب تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر اترا تو اسرائیلی صدر اسحق ہرتزوگ اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان کا استقبال کیا۔
طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ ’جنگ ختم ہو چکی ہے، سمجھ گئے؟” انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔ واشنگٹن سے روانگی کے وقت انہوں نے اپنے دورۂ مشرقِ وسطیٰ کو “انتہائی خصوصی” قرار دیا۔
ترمب يصل إلى مطار بن غوريون بتل أبيب تزامنا مع الإفراج عن الرهائن #قناة_العربية pic.twitter.com/wRKMUcv0iE
— العربية (@AlArabiya) October 13, 2025
انہوں نے بتایا کہ انہیں عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے زبانی ضمانتیں ملی ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں اور کہا کہ “غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی ذمہ داری سب ممالک کی ہوگی"۔
ٹرمپ نے واضح کیاکہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ غزہ میں جنگ بندی قائم رہے۔ ان کے اور نیتن یاھو کے درمیان بعض اختلافات ضرور تھے مگر وہ جلد ختم ہو گئے"۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ “غزہ سے مغویوں کی واپسی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہم نے دنیا کو حیران کرنے والی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی ہمارے سامنے بڑے سکیورٹی چیلنجز باقی ہیں، لیکن ہم ان کا مقابلہ کریں گے"۔
ترمب يصل إلى إسرائيل #قناة_العربية pic.twitter.com/Tzk8cbc3Bi
— العربية (@AlArabiya) October 13, 2025
ٹرمپ بعد ازاں شرم الشیخ پہنچیں گے جہاں عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں “غزہ کی جنگ کے خاتمے” سے متعلق دستاویز پر دستخط ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں دونوں فریقوں اور خطے کے اہم ممالک سے زبانی ضمانتیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ "میرا نیتن یاھو کے ساتھ تعلق بہت اچھا ہے، اختلافات ہوئے مگر جلد ختم ہو گئے"
صدر ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی کہ وہ غزہ کا دورہ کریں یا کم از کم اس کی سرزمین پر قدم رکھ سکیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ “غزہ کے لیے نئی کونسل برائے امن” بہت جلد تشکیل دی جائے گی، جس کی صدارت وہ خود کریں گے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق اسرائیل اپنی افواج کو بتدریج غزہ کے شہروں سے واپس بلائے گا اور ان کی جگہ ایک کثیرالقومی فورس تعینات کی جائے گی جس کا آپریشنل مرکز اسرائیل میں امریکی نگرانی میں ہوگا۔
امریکی منصوبے کے تحت ایک "فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی" تشکیل دی جائے گی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوگی اور اسے ایک عبوری بین الاقوامی اتھارٹی کے تحت رکھا جائے گا جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے۔
غزہ کے صحت کے اداروں کے مطابق جنگ کے نتیجے میں تقریباً 68 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں نصف سے زیادہ عورتیں اور بچے شامل ہیں، جب کہ جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے میں 1219 افراد ہلاک ہوئے۔