برطانوی اخبار نے شرم الشیخ کو "امن کا شہر" قرار دیا !
"میٹرو" اخبار نے یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے انعقاد سے چند گھنٹے قبل شائع کی
برطانوی اخبار "میٹرو" نے مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ کو "امن کا شہر" قرار دیتے ہوئے برطانوی شہریوں کو وہاں جانے کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مختلف شہروں سے روزانہ براہِ راست پروازیں اس "انتہائی اہم سیاحتی مقام" تک جاتی ہیں۔
یہ رپورٹ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق اس وقت سامنے آئی جب آج پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس شرم الشیخ میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں 20 ممالک کے رہنما شرکت کر رہے ہیں اور اس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اس کے مستقبل پر غور کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق شرم الشیخ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک معروف شہر ہے جو عالمی سطح پر غوطہ خوری اور مرجانی چٹانوں کے لیے مشہور ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال تقریباً ایک کروڑ سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد برطانیہ، جرمنی اور روس سے آنے والوں کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج جب چھٹی منانے والے لوگ ساحل پر سن اسکرین لگا کر شیشہ پی رہے ہیں، وہ اس مقام سے چند قدم کے فاصلے پر ہیں جہاں ایک ایسا اجلاس ہونے والا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے امن کے خدوخال بدل سکتا ہے۔
شرم الشیخ کو "امن کا شہر" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکز رہا ہے۔ یہاں 2022 میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی "کانفرنس آف دی پارٹیز 27" سمیت عالمی سطح کی کئی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔
اخبار کے مطابق یہ شہر کبھی بدوی ماہی گیروں کی ایک بستی تھا، جسے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے قبضے میں لے لیا، مگر 1982 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد یہ دوبارہ مصر کو واپس مل گیا۔ اسی کے بعد مصری حکومت نے شرم الشیخ کو سیاحت کے بڑے مرکز کے طور پر ترقی دینا شروع کیا، جس میں ہوٹلوں، غوطہ خوری مراکز، سڑکوں اور ہوائی اڈے کی بہتری پر سرمایہ کاری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شہر کے ریزورٹس، جدید سڑکیں، بین الاقوامی ہوائی اڈا اور وسیع کانفرنس سینٹر نے شرم الشیخ کو دنیا کے نمایاں سیاحتی اور سفارتی مقامات میں شامل کر دیا ہے۔ آج اگرچہ بیشتر سیاح یہاں صرف دھوپ، سمندر اور مکمل پیکیج تعطیلات کے لیے آتے ہیں لیکن اسی پس منظر میں وہ مذاکرات بھی جاری ہیں جو پورے خطے کے امن کو تشکیل دے سکتے ہیں۔