تمباکو نوشی صحت کے لیے سنگین نقصانات کا باعث بنتی ہے، اس لیے اسے چھوڑنا ایک فوری ضرورت ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، تمباکو نوشی ترک کرنا حتیٰ کہ بڑھاپے میں بھی عمر سے متعلق یادداشت کی خرابیوں کی رفتار کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج اس بات کے شواہد کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ممکنہ طور پر یادداشت کے زوال سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، جیسا کہ برطانوی خبر رساں ادارے "پی اے میڈیا" نے رپورٹ کیا۔
9436 افراد
تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کی ایک ٹیم نے بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیت میں کمی یعنی سوچنے، سیکھنے اور یاد رکھنے کی قابلیت میں زوال پر تمباکو نوشی کے اثرات کا جائزہ لیا۔
جریدے "لانسیٹ ہیلتھی لانجیویٹی" (The Lancet Healthy Longevity) میں شائع ہونے والی تحقیق میں 12 ممالک کے 9436 افراد کے اعداد وشمار شامل تھے جن کی عمریں 40 سال یا اس سے زیادہ تھیں۔
مطالعے میں شامل نصف افراد نے تمباکو نوشی ترک کر دی، جبکہ باقی نصف افراد تمباکو نوشی جاری رکھتے رہے۔
محققین نے کہا کہ تمباکو نوشی اور ذہنی صحت کے درمیان ایک تعلق موجود ہے، تاہم تمباکو نوشی چھوڑنے کے طویل المدتی فوائد اتنے واضح نہیں ہیں۔
اسی طرح یادداشت اور زبانی روانی (بول چال کی صلاحیت) کو جانچنے والے ٹیسٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ جن افراد نے تمباکو نوشی ترک کی، ان کی کارکردگی میں کمی تمباکو نوشی چھوڑنے کے بعد چھ سال کے عرصے میں نسبتاً سست رفتار سے ہوئی۔
وہ افراد جنہوں نے تمباکو نوشی ترک کی، ان میں یادداشت کی کمی کی رفتار 20 فیصد کم تھی، جبکہ زبانی روانی (بولنے کی صلاحیت) میں کمی 50 فیصد کم پائی گئی۔
اپنی جانب سے یونیورسٹی کالج لندن کے شعبۂ وبائیات اور صحت عامہ کی ماہر ڈاکٹر میکائیلا بلومبرگ نے کہا کہ:ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنا طویل مدت میں بہتر ذہنی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ اگر تمباکو نوشی پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر میں چھوڑ دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا:ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی چھوڑنا، حتیٰ کہ زندگی کے آخری مرحلے میں بھی، عموماً جسمانی صحت میں بہتری کا باعث بنتا ہے، اور بظاہر یہی بات ذہنی صحت پر بھی لاگو ہوتی ہے۔