دمشق میں سابق بریگیڈیر جنرل گرفتار ... صیدنایا جیل کی "نمک کی کوٹھڑیوں" کا ذمے دار تھا
وہ بدنام زمانہ فوجی جیل کے اندر قیدیوں کے قتل کی کارروائیوں کا براہِ راست نگران تھا
سابق شامی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے شامی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سابق بریگیڈیئر جنرل اکرم سلوم العبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان پر صیدنایا فوجی جیل میں "نمک کی کوٹھڑیوں" کی نگرانی سمیت سنگین مظالم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان کوٹھڑیوں میں گرفتار شدگان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو محفوظ کیا جاتا تھا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق بدھ کے روز اکرم العبداللہ کو گرفتار کیا گیا۔ وہ بشار الاسد کے دورِ حکومت میں صیدنایا جیل کے قیدیوں کے خلاف خوفناک مظالم میں براہِ راست ملوث رہے۔
وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ دمشق میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے ایک منظم کارروائی کے دوران انھیں گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری باریک بینی کے ساتھ کی گئی زمینی نگرانی کے بعد ممکن ہوئی۔
الداخلية السورية تعلن توقيف اللواء أكرم العبدالله بتهم تتعلق بارتكاب انتهاكات جسيمة في سجن صيدنايا منها الإشراف على "غرف الملح"#سجن_صيدنايا#سوريا#قناة_الحدث pic.twitter.com/kakue3VmnW
— ا لـحـدث (@AlHadath) October 23, 2025
وزارت کے مطابق جنرل العبداللہ نے 2014 سے 2015 کے درمیان سابق حکومت کے دور میں، وزارتِ دفاع میں فوجی پولیس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ "یہ مجرم صیدنایا فوجی جیل کے اندر قیدیوں کے قتل کی کارروائیوں کا براہِ راست نگران تھا"، خاص طور پر اس وقت جب وہ فوجی پولیس کا سربراہ تھا۔
وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق، العبداللہ کو تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ عدالتی حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
یاد رہے کہ صیدنایا فوجی جیل شام کی سب سے زیادہ بدنام جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق سابق شامی نظام نے یہاں خفیہ طور پر اور منظم انداز میں ہزاروں قیدیوں کو ہلاک کیا۔
رپورٹوں کے مطابق 2011 سے 2015 کے درمیان ہفتہ وار اوسطاً 50 قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی اور ان میں سے بیشتر کو بغیر کسی عدالتی کارروائی یا مقدمے کے ... موت کے گھاٹ اتارا گیا۔