اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک امریکی منصوبے کے تحت حماس کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کے مشن کے حصے کے طور پر غزہ کی پٹی میں ترک افواج کے کسی بھی کردار کی مخالفت کا اشارہ دے دیا۔ یروشلم کے دورے کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ کھڑے ہو کر نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد مستقبل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس منصوبے میں ان فریقوں کو شامل کیا گیا جو دو سال کی جنگ سے تباہ حال پٹی میں سکیورٹی قائم کر سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے ایک بار پھر جنگ بندی کے برقرار رہنے پر امید کا اظہار کیا اور منگل کو کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا جنگ بندی کا منصوبہ توقع سے بہتر چل رہا ہے۔ انہوں نے بدھ کو کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ آسان ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور ہم درحقیقت پورے مشرق وسطیٰ میں ایک بہتر مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔ 12 دنوں کی نازک جنگ بندی کے برقرار رہنے کے ساتھ توجہ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔
اس مرحلے کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت ہے اور یہ منصوبہ ایک بین الاقوامی نگرانی میں فلسطینی کمیٹی کی تشکیل کا انتظام کرتا ہے تاکہ پٹی کا انتظام کیا جا سکے جس میں جانچ اور سکیورٹی جانچ کے بعد فلسطینی پولیس اہلکاروں کی حمایت کے لیے ایک بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے۔
غزہ میں ترک سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے خیال کے بارے میں پوچھے جانے پر نیتن یاہو نے کہا کہ میرے اس بارے میں قطعی خیالات ہیں۔ کیا آپ اندازہ لگانا چاہیں گے کہ وہ کیا ہیں؟۔ جے ڈی وینس نے منگل کو کہا تھا کہ ترکیے کا تعمیری کردار ہوگا لیکن جب غیر ملکی افواج کی موجودگی کی بات آئے گی تو واشنگٹن اسرائیل پر کچھ بھی مسلط نہیں کرے گا۔
نیٹو کے رکن ترکیے اور اسرائیل کے تعلقات ماضی میں قریب رہے تھے لیکن غزہ میں جنگ کے دوران وہ اس وقت اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئے جب ترک صدر ایردوان نے غزہ اور مشرق وسطیٰ میں دیگر مقامات پر اسرائیل کے حملوں پر سخت تنقید کی اور شام، جس کی سرحدیں دونوں کے ساتھ ملتی ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کا میدان بن گیا۔ ترکیے ، جس نے حماس کو ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرنے پر راضی کرنے میں مدد کی، کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی ورکنگ فورس میں حصہ لے گا اور اس کی مسلح افواج ضرورت کے مطابق فوجی یا سویلین حیثیت میں کام کر سکتی ہیں۔
یاد رہے حماس غیر مسلح ہونے کے دباؤ کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار مستقبل کی فلسطینی ریاست کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک بہت مشکل کام ہے جو حماس کو غیر مسلح کرنا، غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے تاکہ اس کے باشندوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکے اور یہ یقینی بنانا ہے کہ حماس اسرائیل میں ہمارے دوستوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔
جنگ بندی کچھ پرتشدد واقعات، قیدیوں کی لاشوں کی واپسی کی رفتار، امداد کے داخلے اور سرحدیں کھولنے کے بارے میں الزامات کے تبادلے کے ساتھ حالات اب بھی نازک ہیں۔ حماس جنگ بندی کے بعد سے ہی غزہ میں اپنی سڑکوں پر مسلح افراد کو تعینات کر کے اور اپنی مخالف گروہوں کے ساتھ جھڑپیں کر کے اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر رہی ہے۔