یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضر موت میں قائم خصوصی فوجداری عدالت نے بدھ کے روز ایک فیصلہ سنایا، جس کے تحت چھ ایرانی ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اُن کے خلاف ایران سے یمن کی سرزمین میں تین ٹن منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں قصور وار ثابت ہونے پر سنایا گیا۔
فیصلہ حضر موت کی ابتدائی خصوصی فوجداری عدالت کے جج فہد الیزیدی کی سربراہی میں علنی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے چھ ایرانی ملزمان کو مجرم قرار دیا، جن کے نام یہ ہیں:داوود محمد شاہ مراد، علی محمد محمد علی عبداللہ، عبدالصمد عبدالقادر حسین شارک، عبدالنبی بیر شارک، امین سولو موسیٰ دادی اور محمد حنیف جاتی جماعت۔
سزائے موت پانے والوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ایران سے تین ٹن حشیش اور شیشہ (آئس) جیسی منشیات کو یمنی حدود میں ایک بحری کشتی کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش کی جسے یمنی علاقائی پانیوں میں گرفتار کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرموں کو تعزیراً سزائے موت دی جائے گی یعنی تلوار سے یا گولی مار کر موت سے ہمکنار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ضبط شدہ سامان ضبط کر کے اور منشیات کو پراسیکیوشن کی نگرانی میں تلف کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
فیصلے کے متن میں واضح کیا گیا کہ یہ کارروائی سرحد پار منشیات اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف جدوجہد کا حصہ ہےاوریہ حضر موت کی عدلیہ اور سکیورٹی اداروں کی اُن کوششوں کا تسلسل ہے، جو ملک کے اندر غیر قانونی سرگرمیوں کو مالی مدد فراہم کرنے والی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
ایک عدالتی ذریعے نے بتایا کہ یہ مقدمہ یمن میں حالیہ برسوں کے دوران پکڑی جانے والی سب سے بڑی سمگلنگ کی وارداتوں میں سے ایک ہے،چاہے وہ منشیات کی مقدار کے لحاظ سے ہو یا اس میں ملوث نیٹ ورک کی نوعیت کے اعتبار سے۔
شبہ ہے کہ یہ نیٹ ورک اُن اداروں یا گروہوں سے منسلک ہے جو جنوبی ساحلوں کے راستے منشیات داخل کرتے ہیں، اور ملک میں جاری سکیورٹی بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمنی حکام ملک کے عربی سمندر سے متصل مشرقی ساحلی علاقوں پر عدالتی اور سکیورٹی نگرانی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،تاکہ اُن سمگلنگ نیٹ ورکس کا مقابلہ کیا جا سکے جنہیں علاقائی عناصر کی مالی معاونت حاصل ہے اور جن کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔