پچھلے تقریبا ایک ڈیڑھ سال سے غیر معمولی طور پر بین الاقوامی سطح پر خبروں میں رہنے والا اہم یورپی ملک سپین اتوار کے روز ایک اور طرح کے مظاہروں کے نشانے پر آگیا ہے۔ اتوار کے روز مظاہروں کی کال پر ہزاروں لوگ جمع ہوگئے اور انہیں چھاتی کے کینسر کی سکریننگ میں ہونے والی کلینیکل کوتاہی کو مظاہرے منظم کرنے والے افراد نے ایک بڑا سکینڈل قرار دے دیا۔
اس کال پر سب سے زیادہ مظاہرین سپین کے جنوبی شہر سیویل میں سڑکوں پر نکلے۔ ان سب نے اس کوتاہی کو ایک بڑا سکینڈل قرار دیا اور انتہائی کوتاہی اور بد انتظامی کا شاخسانہ کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی دنیا جہاں کے طرز زندگی کی وجہ سے کینسر جیسی بیماری اب ایک عام سی بیماری بن چکی ہے اور اسی وجہ سے یورپی خواتین میں چھاتی کا کینسر بھی بڑھتا چلا گیا ہے۔ مگر بد انتظامی کی وجہ سے سپین کی سینکڑوں خواتین کینسر سکریننگ ٹیسٹ کے نتائج سے محروم ہو گئی ہیں۔ جو ان کی صحت کے لیے سخت تباہ کن ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں جنوبی اندلس میں قائم انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم 2300 عورتیں اس کوتاہی کا شکار ہوئی ہیں۔ ان خواتین نے حالیہ کئی برسوں کے دوران ہسپتالوں سے متعلقہ ٹیسٹ میمو گرام کرائے تھے۔ مگر بتایا گیا کہ ان ٹیسٹوں کے بعد یہ نامکمل رہ گئے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی مریضوں کو اپنی بیماری کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔
سرکاری ہسپتالوں سے متعلق علاقائی حکام نے ابھی تک اس کوتاہی کا کوئی بہانہ پیش نہیں کیا البتہ یہ کہا ہے کہ میموگرافی یونٹس میں عملے کی ضرورت کے مطابق تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔
سپین کی مرکزی حکومت کی بین الاقوامی اور سفارتی سطح پر کئی پالیسیوں کی مخالف اس جنوبی اندلس کی حکومت نے اس میمو گرافی کو ایک سکینڈل کے طور پر سامنے لانے کا اہتمام کیا ہے تاکہ کینسر جیسے موذی مرض کے مریضوں کو مظاہرے میں شریک کرے اور اس کوتاہی کے خلاف آواز اٹھائے۔
یاد رہے سپین کے نظام حکومت میں بہت سے حکومتی شعبے مرکز اور علاقائی حکومتوں کے درمیان تقسیم ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں بھی صحت ، تعلیم اور امن و امان کے محکمے صوبائی سبجیکٹ ہیں اور اس ناطے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محروم رکھے گئے عوام کو مرکزی یا وفاقی حکومت کے خلاف ایک مہم کے سے انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
میموگرافی کے معاملے میں سپین میں بھی یہی صورتحال ہے۔ علاقائی حکومتوں کی کوتاہی بین الاقوامی سطح پر مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنا کر پیش کی جارہی ہے۔
اس پس منظر میں رواں ماہ کے شروع میں اندلس کے کئی شہروں میں خواتین کو احتجاج کے لیے کال دی گئی اور مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آگئے۔ اس احتجاج کا رخ مرکزی حکومت کی طرف ہے جو بائیں بازو کی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ میمو گرافی کے ٹیسٹ کا یہ معاملہ علاقائی حکومت کا مرکزی حکومت کے لیے عوامی طاقت آزمانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ کیونکہ میڈیا بھی علاقائی حکومت کی سوچ کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ہے۔
اس موقع پر حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کی کینسر کی بیماری کا علاج سیاسی لڑائی کا زینہ بن جائے گا۔ کیونکہ خواتین نے مظاہرے کے دوران کلینکل لیبارٹریوں اور ہسپتالوں میں ہونے والی اس کوتاہی کو اپنے خلاف حملہ قرار دیا ہے۔