اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی رہنما مروان البرغوثی کے بیٹے قسام البرغوثی کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان کے والد کو ان کے سیاسی کردار کی وجہ سے رہا نہیں کر رہا۔
بدھ کو العربیہ/الحدث سے گفتگو میں قسام نے بتایا کہ ان کے والد کو جیل کے اندر منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خاندان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہے، تاہم انھوں نے العربیہ کے ذریعے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ ان کے والد کی رہائی میں مدد کریں۔
یہ اپیل ان اشاروں کے بعد سامنے آئی ہے جو صدر ٹرمپ نے حال ہی میں مروان البرغوثی کی ممکنہ رہائی کے بارے میں دیے تھے۔ اس کے بعد مروان البرغوثی کی اہلیہ فدویٰ البرغوثی نے بھی امریکی صدر سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ ٹائم میگزین کے لیے اپنے بیان میں فدویٰ نے کہا کہ "جناب صدر، ایک حقیقی شراکت دار آپ کا منتظر ہے ... ایسا شخص جو خطے میں منصفانہ اور پائے دار امن کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دے سکتا ہے ... فلسطینی عوام کی آزادی اور آئندہ نسلوں کے امن کے لیے مروان البرغوثی کی رہائی میں مدد کیجیے"۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ٹائم کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان سے مروان البرغوثی کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے پر فیصلہ کریں گے، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یاد رہے کہ 66 سالہ مروان البرغوثی 2002 سے اسرائیلی قید میں ہیں، انھیں 2004 میں پانچ عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ دوسری انتفاضہ کے دوران ہونے والے حملوں میں ملوث تھے جن میں پانچ افراد مارے گئے۔ البرغوثی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسرائیلی عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
البرغوثی اوسلو امن معاہدے کے نمایاں شریک رہ چکے ہیں اور آج بھی فلسطینی عوام میں ایک مقبول رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اکثر رائے شماریوں میں فلسطینی اتھارٹی کی صدارت کے لیے اولین امیدوار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
البرغوثی کا نام ان قیدیوں کی فہرست میں بھی شامل رہا ہے جنھیں حماس تنظیم اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں شامل کرنا چاہتی تھی، مگر اسرائیل نے اس کی مخالفت کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ، جو غزہ میں جنگ بندی کے ضامن قرار دیے جا رہے ہیں، اب جنگ کے بعد غزہ کی حکومت کے نظم کے لیے ایک نیا فریم ورک تشکیل دینے کی مشکل ذمہ داری کا سامنا کر رہے ہیں۔