یمن کی حوثی حکومت کے قائم مقام وزیرِ خارجہ عبدالواحد ابو راس نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے زیرِ حراست اقوامِ متحدہ کے تینتالیس مقامی عملے کو اگست میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے سے تعلق کے شبہے میں مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔
اگست میں حوثی حکومت کے وزیرِ اعظم اور کئی دیگر وزراء دارالحکومت صنعاء پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اعلیٰ حکام پر یہ اس نوعیت کا پہلا ہلاکت خیز حملہ تھا۔
اقوامِ متحدہ نے بارہا حوثیوں کے یہ الزامات مسترد کیے ہیں کہ یمن میں اقوامِ متحدہ کا عملہ یا اس کی کارروائیاں اس حملے میں ملوث تھے۔
ابو راس نے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا، "سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے ہونے والے اقدامات مکمل عدالتی نگرانی میں کیے گئے تھے۔ پبلک پراسیکیوشن کو ہر اقدام سے مرحلہ وار باخبر رکھا گیا تھا۔"
'عمل اپنے اختتام کی طرف رواں'
"اس لیے جتنی دیر تک استغاثہ کو مطلع کیا جاتا ہے، یہ یقینی ہے کہ یہ عمل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں مقدمات اور عدالتی احکام جاری ہوں گے،" انہوں نے کہا۔
ابو راس نے کہا کہ عالمی غذائی پروگرام کے اندر کام کرنے والا سیل حکومت کو براہِ راست نشانہ بنانے میں واضح طور پر ملوث تھا۔
عالمی غذائی پروگرام کے ترجمان نے کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔ اقوامِ متحدہ نے بارہا ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ عملہ جاسوسی میں ملوث تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس کے کم از کم 59 اہلکار حوثیوں کے زیرِ حراست ہیں جن کی وہ من مانی حراستوں کا نام دیتے ہوئے مذمت کرتا ہے اور اس نے اپنے اہلکاروں اور دیگر قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ملزمان یمنی ہیں۔ یمنی قانون کے مطابق انہیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے لیے امداد کی فراہمی 'بہت زیادہ مشکل'
اتوار کے روز صنعاء میں حوثی سکیورٹی فورسز اقوامِ متحدہ کے کئی دفاتر میں داخل ہوئے جس کے بعد تازہ ترین حراستیں سامنے آئیں۔
اقوامِ متحدہ نے حوثیوں پر ایسے اقدامات کرنے کا الزام لگایا ہے جن کے باعث ایجنسی کے لیے یمن میں ضرورت مندوں کو امداد فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
قائم مقام وزیرِ خارجہ نے کہا، حکومت دیگر انسانی تنظیموں کی مدد کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے وزارتِ خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم انسانی امور کے اصولوں پر کاربند تنظیموں کی معاونت اور مدد اور ان کی سرگرمیوں اور کام میں سہولت فراہم کریں گے۔"