خزاں کا موسم جلد کی صفائی اور نئی تازگی کے لیے بہترین وقت

گرمیوں کے اختتام پر جلد موٹی ہونے لگتی ہے اور اس پر مردہ خلیے جمع ہو جاتے ہیں، جو جلد کے مساموں کو بند کر کے اسے سانس لینے سے روکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اکتوبر کا مہینہ جلد کی صفائی اور نکھار کے لیے بہترین وقت سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ جلد کے مطابق یہ موسم جلد سے میل کچیل اور فاضل خلیوں کے خاتمے کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے، جس سے چہرے کی تازگی اور چمک میں اضافہ ہوتا ہے۔

گرمیوں کے اختتام پر جلد کی موٹائی بڑھ جاتی ہے اور اس پر مردہ خلیے جمع ہو کر اس کے مسام بند کر دیتے ہیں، جس سے جلد کا سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ سورج کی مسلسل شعاعوں، تیز ہوا، گرمی، سمندری پانی یا تیراکی کے پانی کے اثر سے جلد کی حفاظتی تہہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے جلد کے رنگ میں بے ترتیبی، دھبوں کا ظاہر ہونا اور باریک لکیروں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں جلد کی صفائی جلد کے خلیوں کی تجدید کے عمل کو تیز کر کے ان خامیوں کو درست کرنے میں مدد دیتی ہے۔

خزاں میں جلد کی صفائی

ماہرینِ جلد کے مطابق خزاں کا موسم جلد کی صفائی کے لیے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ بہار اور گرمیوں کے دوران سورج کی تیز شعاعوں کے باعث اس عمل سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ اُس وقت جلد پر دھبے یا رنگت کے داغ نمودار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

خزاں میں جلد کی صفائی نہ صرف جلد کی بہتر بحالی اور نرمی میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ وہ موزوں وقت بھی ہے جب جلد کی دیکھ بھال کے معمول میں نئے، فعال اور تجدید کرنے والے اجزا شامل کیے جا سکتے ہیں، بغیر اس خطرے کے کہ جلد میں حساسیت یا جلن پیدا ہو۔

ضرورت کے مطابق منتخب تراکیب

جلد کی صفائی مختلف اقسام میں دستیاب ہے، جو اس کی طاقت اور گہرائی کے لحاظ سے الگ الگ اثر رکھتی ہیں۔ نرم اور ہلکی جلد کی صفائی اوپر والی سطح کو نرمی سے صاف کر کے اسے تازگی اور چمک بخشتی ہے، جب کہ زیادہ طاقتور اقسام جلد کی گہرائی میں اثر کرتی ہیں ،کولاجن کی پیداوار بڑھاتی ہیں، سیاہ دھبوں کو ہلکا کرتی ہیں اور جھریوں کو ہموار بناتی ہیں۔


ہر حال میں یہ ضروری ہے کہ اپنی جلد کی نوعیت کے مطابق درست ترکیب منتخب کی جائے اور مختلف تیزابوں (acids) کو بیک وقت استعمال کرنے سے گریز کیا جائے، تاکہ جلد میں تحریک یا حساسیت (irritation) پیدا نہ ہو۔

گھریلو جلد صاف کرنے والا ماسک

گھریلو استعمال کے لیے بنائے گئے ،جلد صاف کرنے والا ماسک بتدریج اور محفوظ انداز میں اثر دکھاتے ہیں۔ یہ عموماً لوشن یا ماسک کی شکل میں دستیاب ہوتے ہیں اور ان میں قدرتی پھلوں کے تیزاب شامل ہوتے ہیں، جیسے گلائیکولک ایسڈ یا لیکٹک ایسڈ، جو مردہ خلیوں کو دور کر کے جلد کی ساخت کو نرم اور ہموار بناتے ہیں۔

اگر جلد حساس ہو تو گلوکونولاکٹون (Gluconolactone) جیسے ہلکے تیزاب استعمال کرنا بہتر ہے، جو نہ صرف نرمی سے جلد صاف کرتے ہیں بلکہ جلد کو بیک وقت نم اور محفوظ بھی رکھتے ہیں۔ان ترکیبوں کو عموماً شام کے وقت صاف اور خشک جلد پر ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

قدرتی پھلوں سے صفائی حساس جلد کے لیے ایک اور مؤثر متبادل ہے۔ یہ عام طور پر پپیتا (Papaya) یا انناس (Pineapple) سے حاصل کیے گئے قدرتی خامروں (enzymes) پر مشتمل ہوتا ہے، جو جلد کی میل کچیل اور فاضل خلیوں کو بغیر جلن یا چبھن کے نرمی سے تحلیل کر دیتے ہیں۔

یہ طریقہ ہر قسم کی جلد کے لیے موزوں ہے اور اس سے جلد کی چمک، رنگت میں توازن اور نرمی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اس کی ایک اضافی خوبی یہ ہے کہ یہ جلد کو قدرتی تروتازگی دے کرزندگی کی رونق یا شادابی واپس لوٹا دیتا ہے۔

بیوٹی پارلر میں چہرے کی صفائی

ماہرین کے مطابق بیوٹی سینٹر یا کاسمیٹک انسٹیٹیوٹ میں چہرے کی صفائی کے دو مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جو جلد کی ضرورت اور مطلوبہ نتائج کے مطابق منتخب کیے جاتے ہیں۔

یہ قسم گھر میں کی جانے والی جلد کی صفائی کے مقابلے میں بہتر نتائج فراہم کرتی ہے۔ اس کے اثرات عموماً پہلے ہی سیشن کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس عمل میں تیزاب کی مخصوص مقدار (تقریباً 20 فیصد تک) استعمال کی جاتی ہے تاکہ جلد کی مختلف مشکلات جیسے رنگت کی پھیکی پڑنا، مساموں کا پھیل جانا اور رنگت کے دھبے دور کیے جا سکیں۔

اس کے بعد کے دنوں میں اضافی نمی (moisturizing) اور سورج کی شعاعوں سے مکمل حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ نئی جلد حساس ہوتی ہے اور آسانی سے متاثر ہو سکتی ہے۔

اس زُمرے میں درمیانہ (medium) اور انتہائی گہرا (deep) جلد کی صفائی شامل ہیں۔ اس عمل میں ٹرائیکلورواسٹک ایسڈ (Trichloroacetic Acid) یا فینول (Phenol) جیسے طاقتور اجزا استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ جلد کی صفائی کے طریقے جلد کی گہری تہوں کو ہٹاتے ہیں اور پھر ایک تجدیدی عمل (regeneration phase) شروع ہوتا ہے جو دانے، ضدی دھبے اور جلد کی ناہمواریوں کو کم کرتا ہے۔

صحت یابی کی مدت چند دنوں سے لے کر دو ہفتوں تک ہو سکتی ہے، جو جلد کی صفائی کی گہرائی پر منحصر ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد جلد کے خلیوں کو زیادہ مضبوط، متوازن اور تازہ انداز میں دوبارہ اُبھارنا ہے۔یہ قسم خاص طور پر بالغ یا تھکی ہوئی جلد کے لیے موزوں ہے، جو دیرپا نکھار اور قدرتی چمک کی متلاشی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں