دمشق کے موقف کے لیے سعودی عرب کی حمایت ... شامی مندوب نے مملکت کا شکریہ ادا کیا

سلامتی کونسل نے صدر احمد الشرع اور اُن کے وزیرِ داخلہ انس خطاب کے نام پابندیوں کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب ابراہیم علی نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے شام کے موقف کی حمایت کی۔ جمعرات کو نیویارک سے جاری یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس خطاب کے نام پابندیوں کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

مندوب ابراہیم علی نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو میں کہا کہ احمد الشرع کا نام فہرست سے نکالا جانا ریاستی کوششوں کی کامیابی اور ایک "اہم سنگِ میل" ہے۔ اُن کے مطابق سلامتی کونسل کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ، شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں دل چسپی رکھتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صدر الشرع کا امریکہ کا متوقع دورہ ایک تاریخی پیش رفت ہو گا۔

ابراہیم علی نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شام کی شمولیت کے بعد، امریکی پابندیوں کی باقیات بھی ختم کر دی جائیں گی۔ ان کے مطابق دمشق نے اپنی سرزمین پر استحکام کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز باقاعدہ ووٹنگ کے بعد شام کے صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس خطاب کے ناموں کو پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس قرارداد کے حق میں 14 ارکان نے ووٹ دیا، جب کہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

ادھر یہ اقدام دراصل اُس امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توسیع ہے جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس موقع پر شام پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا، جسے واشنگٹن کی پالیسی میں ایک بڑا سفارتی موڑ قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے امریکہ سلامتی کونسل پر زور دے رہا تھا کہ شام پر برسوں سے جاری اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جائے، کیونکہ طویل جنگ نے ملک کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اس فیصلے کے بعد دمشق اور ریاض کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی ایک اہم موڑ ملا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی سفارتی حمایت نے اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا، جو شام کی علاقائی واپسی اور عالمی سطح پر سیاسی بحالی کے راستے کو مزید ہموار کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں