فرانس : دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 3 خواتین سے تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق استغاثہ نے آج ہفتے کے روز اعلان میں بتایا کہ گزشتہ ماہ 10 اکتوبر کو دار الحکومت پیرس میں دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں تین خواتین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق عدالت میں ان خواتین پر "افراد کے خلاف دہشت گردانہ سازش" کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

تینوں خواتین کو حراست میں رکھا گیا ہے جن میں سے ایک کی عمر 18 سال ہے۔ مقدمے کی قانونی نمائندگی کرنے والے وکیل کے مطابق حملے کا ہدف پیرس میں کوئی شراب خانہ یا موسیقی کا ہال تھا، تاہم مقام کی درست تفصیل واضح نہیں کی گئی۔

فرانسیسی انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر اولیویئر کریسٹن نے پیر کے روز خبردار کیا کہ 13 نومبر 2015 کے حملوں کے 10 سال بعد بھی ملک میں دہشت گردی کا خطرہ "ابھی بھی بہت حقیقی" ہے۔ یہ حملے فرانس کی تاریخ کے سب سے شدید حملے تھے، جن میں صرف چند گھنٹوں میں 130 افراد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہوئے۔

کریسٹن نے کہا "ہم اس وقت ایک حقیقی خطرے کے مرحلے میں ہیں۔ ہماری جانب سے کھولی جانے والے کیسوں کی تعداد پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ یہ خطرہ "اب بھی بہت طاقت ور" ہے اور حالیہ برسوں میں اس میں تبدیلی آئی ہے۔ اس لیے کہ اب زیادہ تر حملے "انفرادی خود مختاری" کے ساتھ کیے جاتے ہیں یعنی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں کمی آئی ہے۔

کریسٹن نے نوٹ کیا کہ ملوث افراد کی عمروں میں واضح کمی آئی ہے۔ رواں سال یکم جنوری سے اب تک 17 نابالغ افراد کے خلاف دہشت گردی سے متعلق مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 19 تھی۔

یاد رہے کہ 13 نومبر 2015 کی شام تین انتہا پسندوں نے پیرس کے باتاکلان تھیٹر میں 90 افراد کو ہلاک کیا، جبکہ دیگر دو انتہا پسندوں نے پیرس اور اس کے مضافات میں خاص طور پر پب کی بالکونیوں اور اسٹیڈ دو فرانس کے قریب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس حملے میں 350 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں