2.586 بلین ٹن خام سونا، چین کی دریافت جو عالمی کان کنی کا نقشہ بدل سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین کی وزارت قدرتی وسائل نے ملک کے شمال مشرقی صوبے لیاؤنِنگ میں پہلی انتہائی بڑی اور کم درجے کی سونے کے خام ڈیپازٹس کی دریافت کا اعلان کیا۔ وزارت نے مزید کہا کہ اندازوں کے مطابق دادونگقو کے ذخائر میں 2.586 بلین ٹن سونے کا خام مال موجود ہے۔ سونے کے کل وسائل 1444.49 ٹن ہیں جس میں ہر ٹن میں اوسطاً 0.56 گرام سونا موجود ہے۔

وزارت نے کہا کہ یہ تاریخی دریافت ملک کے سٹریٹجک سونے کے ذخائر کو نمایاں طور پر فروغ دے گی جو شمال مشرقی علاقے میں جامع بحالی اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے عالمی معیار کی سونے کی پیداوار کا مرکز بنا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر کے آخر تک چین کے سونے کے ذخائر 74.09 ملین اونس تھے ۔ ستمبر میں 74.06 ملین اونس اور گزشتہ سال اسی عرصے میں 72.8 ملین اونس کے مقابلے میں 1.8 فیصد کا اضافہ تھا۔

پیپلز بینک آف چائنا کے مطابق اس قیمتی دھات کے ذخائر کی مالیت ستمبر میں 283.29 بلین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 297.21 بلین ڈالر تھی۔ چائنا گولڈ ایسوسی ایشن کے اعلان کے مطابق 2025 کے پہلے نو مہینوں کے دوران چین کے سونے کی کھپت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہو کر 683 میٹرک ٹن رہ گئی۔

ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خام مال سے سونے کی مقامی پیداوار سال بہ سال 1.4 فیصد بڑھ کر 272 ٹن ہو گئی ہے۔ پیپلز بینک آف چائنا نے اکتوبر میں مسلسل بارہویں مہینے اپنے ذخائر میں سونا شامل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں