امریکی خفیہ دستاویزمیں منشیات فینٹینیل کو کیمیائی ہتھیار قرار دیکر کشتیوں پر حملوں کا جواز

منشیات کی سمگلنگ میں ملوث گروہ "مہلک اور عدم استحکام پیدا کرنے والی فنڈنگ" فراہم کر رہے ہیں: امریکی محکمہ انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اخبار "وال سٹریٹ جرنل" نے امریکی محکمہ انصاف کی ایک خفیہ یادداشت کے مندرجات کو فاش کیا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے کیریبین اور بحر الکاہل کے علاقوں میں منشیات کی مشتبہ کشتیوں کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا جواز پیش کرتی ہے اور منشیات "فینٹینیل" کو ایک کیمیائی ہتھیار کے طور پر ملک کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔

دستاویز کا جائزہ لینے والے قانون سازوں کے مطابق وزارت کے دفتر برائے قانونی مشیر کی طرف سے تیار کردہ یہ یادداشت ان کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک کثیر جہتی قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے جو گزشتہ ستمبر کے اوائل میں شروع ہوئی تھیں اور جنہیں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یادداشت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ "فینٹینیل" کو ماضی میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس میں 2002 میں ماسکو میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے جب روسی حکام نے ایک تھیٹر میں یرغمالیوں کے بحران کو ختم کرنے کے لیے اس مادے کا ایک نسخہ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں 700 یرغمالیوں میں سے 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ حملوں کا جواز منشیات کے گروہوں کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات پر مبنی نہیں ہے بلکہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ان گروہوں کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں" کے طور پر درجہ بندی کرنے پر مبنی ہے۔ اس طرح یہ قانونی تشریح کے مطابق انہیں جائز فوجی اہداف بنا دیتا ہے۔

یادداشت میں ذکر کیا گیا ہے کہ وینزویلا کو کوکین کی سمگلنگ کے راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ "فینٹینیل" تیار کرتا ہے۔ "فینٹینیل" زیادہ تر میکسیکو میں تیار ہوتی ہے۔ یہ دستاویز "اجتماعی دفاع" کے اصول پر بھی انحصار کرتی ہے تاکہ لاطینی امریکہ میں اتحادی ممالک کو فوجی مدد فراہم کرنے کا جواز پیش کیا جا سکے جو منشیات کے گروہوں کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دستاویز میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ امریکہ ایک ہی ملک کی سرزمین کے اندر منشیات کے گروہوں کے ساتھ غیر عالمی مسلح تنازع میں شامل ہے ، یہ ایک قانونی درجہ بندی ہے جسے امریکی افواج کے اہلکاروں کے عمل کو قانونی فریم ورک کے تحت جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو انہیں مستقبل میں قانونی چارہ جوئی سے بچاتا ہے۔

دوسری طرف قانون کے متعدد ماہرین نے اس یادداشت کو دہشت گردی کی درجہ بندی کے استعمال کی ایک بے مثال توسیع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کہ یہ درجہ بندی عام طور پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے نہ کہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے۔ دوسرے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ مجرمانہ جرائم کے مشتبہ افراد کو لے جانے والی کشتیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جائز کارروائیوں کے زمرے میں نہیں آتا۔ امریکی قانون سازوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ انتظامیہ کو 60 دن کی اجازت کی مدت کے بعد کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے اجازت طلب کرنی چاہیے جو اب تک نہیں ہوا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک تبصرہ میں کہا کہ یہ فوجی مہم مغربی نصف کرہ سے منشیات سے متعلق دہشت گردوں کو ہٹا رہی ہے اور امریکہ کو امریکیوں کو ہلاک کرنے والی منشیات سے بچا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے پڑوس کی حفاظت کرے گا۔

تاہم کولمبیا اور میکسیکو جیسے اتحادی ممالک نے حملوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس طرح کی فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔ اب تک پینٹاگون نے کیریبین اور بحر الکاہل میں 20 معروف حملے کیے ہیں جو ان کے بقول منشیات لے جانے والی کشتیوں پر کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم 79 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم وزارت نے 2 ستمبر کو حملوں کے آغاز کے بعد سے ان دعووں کی حمایت میں عوامی سطح پر کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں