انڈونیشیا : اسرائیل نواز امریکی سکالر کودعوت دینے پر اسلامی جماعت کے سربراہ کااستعفیٰ طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انڈونیشیا کی سب سے بڑی اسلامی جماعت نہضتہ العلماء نے اپنے سربراہ سے استعفا مانگ لیا ہے۔ اس استعفا مانگنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے امریکی سکالر کو انڈونیشیا آنے کی دعوت دی تھی جو غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کا حامی رہا۔

اس امریکی سکالر کو اگست میں ہونے والے نہضتہ العلماء پارٹی کے انٹرنل پروگرام کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ بات خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے پارٹی کے میٹنگ منٹس کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔

انڈونیشیا کی اس سب سے بڑی اسلامی جماعت کے ارکان کی تعداد 100 ملین کے قریب ہے۔ جس کے سربراہ یحییٰ شولیل سے کہا گیا ہے کہ وہ تین دنوں میں اپنے عہدے سے استعفا دے دیں ورنہ انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا جائے گا۔ یہ میٹنگ منٹس جمعرات کے روز ہونے والے اجلاس کے ہیں۔

نہضتہ العلماء کی طرف سے اپنے سربراہ پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی صیہونی نیٹ ورک کے ایک رکن کو دعوت دی تھی اور مزید یہ کہ ان پر مالی بد انتظامی کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ وہ پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر 2021 سے فائز ہیں مگر انہوں نے ابھی تک استعفے کی اطلاعات پر جواب نہیں دیا ہے۔

پارٹی کے ذمہ دار نجیب ازکی نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ امریکی سکالر کو دعوت دینے کے اس معاملے میں ایک امریکی افسر کو بھی بلایا گیا تھا۔ جو صیہونی سکالر کے ساتھ آیا تھا۔

پارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان سے یہ غلطی ہوگئی تھی اور وہ اس امریکی سکالر کا پس منظر چیک نہیں کر سکے تھے۔ البتہ وہ خود اسرائیل کے غزہ میں ظالمانہ نسل کشی کی مذمت کر چکے ہیں۔

امریکی سکالر پیٹر بیرکوئٹز اکثر اسرائیل اور اس کی غزہ میں جنگ پر لکھتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی تحریروں میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزام کو بھی مسترد کیا ہے۔

پیٹر بیرکوئٹز نے ماہ اگست میں نہضتہ العلماء کے اجلاس کے دوران مغربی سیاسی افکار کے موضوع پر لیکچر دیا تھا۔ اس لیکچر کا ذکر ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بھی تبصرے کا فوری جواب نہیں دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں