اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو حماس کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کارروائی کے لیے کسی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔ کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیلی فوج حماس کی کسی بھی کارروائی پر خودکار طریقے سے ردعمل دیتی ہے اور اس میں کسی غیر فریق کا کردار نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان علاقوں میں گھسنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ ان کے مطابق یہ کوششیں ناکام بنا دی گئیں اور فوج نے متعدد مسلح افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ کچھ کو رفح کی سرنگوں سے گرفتار کیا گیا۔
حزب اللہ کے بارے میں سخت مؤقف
نیتن یاھو نے کہا کہ ان کی حکومت حزب اللہ کو اپنی عسکری صلاحیت دوبارہ قائم کرنے سے روکنے کے لیے ’’جو کچھ ضروری ہوگا‘‘ وہ کرے گی۔
غزہ میں حماس کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ
اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے غزہ میں حماس کے ایک اہم رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کے بیان کے مطابق مارے جانے والے رہنما کی شناخت علاء الحدیدی کے نام سے ہوئی جو حماس کے پروڈکشن ہیڈکوارٹر میں سپلائی کے ذمہ دار تھے۔ بتایا گیا کہ وہ ہفتے کے روز غزہ پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ پر متعدد فضائی حملے کیے۔ نیتن یاھو نے کہا کہ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب حماس نے ایک مسلح کارکن کو اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں بھیجا۔ ان کے بقول اس کارروائی میں حماس کے پانچ سینئر کمانڈر مارے گئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیل سیز فائر کو سبوتاژ کر رہا ہے:حماس
حماس نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیلی فوج مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے غزہ میں سیز فائر معاہدے کو کمزور کر رہی ہے، جس سے ثالث ممالک اور امریکہ پر اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
حماس کے مطابق اسرائیلی فورسز روزانہ ’’ یلو لائن‘‘ ہٹا کر مغرب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں جس کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔ ساتھ ہی مشرقی غزہ میں فضائی حملے اور گولہ باری جاری ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی شهاب کے مطابق حماس نے اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
حماس نے کہا کہ ان ’’منظم خلاف ورزیوں‘‘ کے نتیجے میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سیکڑوں شہری فضائی حملوں اور دیگر کارروائیوں میں مارے گئے جبکہ اسرائیلی فوج اپنے انخلا کی وہ حدیں بھی تبدیل کر رہی ہے جن پر پہلے سے اتفاق ہو چکا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ حماس نیتن یاھو حکومت کی جانب سے کسی نئے امر واقعہ کو مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔ اس نے ثالث ممالک سے فوری مداخلت اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ ساتھ ہی امریکہ پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے اور اسرائیل کو معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی سے گذشتہ اکتوبر میں وقف فائر کے جس معاہدے پر اتفاق ہوا تھا اس کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
-
حماس وفد کی غزہ معاہدے کے اگلے مرحلے اور تناؤ پر غور کے لیے قاہرہ آمد
امریکی میڈیا کے مطابق غزہ کو تقسیم کرنے اور حماس کے وجود سے خالی علاقہ قائم کرنے ...
بين الاقوامى -
حماس کا وفد غزہ جنگ بندی پر بات چیت کے لیے قاہرہ میں ہے: ذرائع
حماس کا ایک وفد اتوار کے روز غزہ جنگ کے ثالثین سے ملاقات کے لیے قاہرہ میں تھا، ایک ...
مشرق وسطی -
مصر اور قطر کے رابطوں کے بعد انسانی امداد سے لدے 78 ٹرک غزہ میں داخل
اتوار کے روز مصر سے 78 ٹرکوں پر مشتمل انسانی اور ریسکیو امداد کا قافلہ رفح بری ...
مشرق وسطی