خان یونس کے مشرقی علاقوں پر اسرائیلی فوج کی بم باری

سات اکتوبر کے حملوں کے سبب اسرائیلی فوج کے بعض عہدے داران کے خلاف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے آج پیر کے روز غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے جبکہ شہر کے اطراف میں راکٹ داغے گئے۔ یہ بات العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے بتائی۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے رفح کے جنوب میں بھی بم باری کی۔

ہمارے نمائندے کے مطابق اسرائیلی جنگی کشتیاں رفح کے ساحلوں کی طرف فائرنگ کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کئی سینئر کمانڈروں کو عہدوں سے ہٹانے اور دیگر کی سرزنش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات 7 اکتوبر 2023 کے ناکام فوجی رد عمل کے حوالے سے کیے گئے ہیں جس روز حماس نے جنوبی اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بعض افسران کو اضافی خدمت سے فارغ کیا گیا اور بعض نے خود استعفا دے دیا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ کے مطابق وہ فوج کے کچھ حکام کے خلاف سزاؤں کے اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ فوجی ساتھیوں کے لیے آسان نہیں، لیکن فوجی نظام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ تازہ انضباطی اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی حکام پر حملے کی ناکامیوں کے سبب اندرون ملک دباؤ بڑھ رہا ہے۔

وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت نے اب تک 7 اکتوبر کے حملے کی قومی تحقیقات شروع نہیں کی ہیں اور ہزاروں مظاہرین نے گزشتہ ہفتے کو تل ابیب میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مل کر رسمی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس اور دیگر فلسطینی جماعتوں کے حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 250 کو اغوا کر کے غزہ کی پٹی لے جایا گیا۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں فضائی اور زمینی جنگ چھیڑ دی۔ اس سے غزہ کے وسیع حصے تباہ ہوئے اور فلسطینی حکام کے مطابق 69 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

گذشتہ ماہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جو جنگ ختم کرنے کی منصوبہ بندی کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں