برطانیہ کے معروف بین الاقوامی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو صدر ٹرمپ کی طرف سے دستاویزی فلم کی ادارت کے سلسلے میں تعصب کا الزام اور ہرجانے کے قانونی نوٹس دیے جانے کے بعد مشکلات میں ابھی کمی نہیں آئی ہے۔ بلکہ اس کے اپنے ہی ایک سابق مشیر کی رپورٹ سے بھی 'بی بی سی' کا یہ ادارہ ایک بحران میں مبتلا نظر آرہا ہے۔
'بی بی سی' کے سابق مشیر نے ایک بار پھر ایک شدت اختیار کیے ہوئے قضیے کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 'بی بی سی' ٹرمپ سے متعلق بنائی جانے والی دستاویزی فلم میں ادارتی طور پر اپنے پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔لیلن اداراتی سطح پر 'بی بی سی' ایک متعصب ادارہ نہیں ہے۔
بی بی سی کے سابق مشیر نے مزید کہا کہ انہیں امید تھی کہ ان کی تنقید اس غلطی کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
میخائل پریسکاٹ جنہوں نے ٹرمپ کے 5 ارب ڈالر ہرجانے کے نوٹس کی دھمکی کے بعد تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ انہوں نےیہ بات پیر کے روز اس جاری تنازعے کے بارے میں دوبارہ بات کرتے ہوئے کہی ہے
خیال رہے 'بی بی سی' مغربی دنیا کے سب سے زیادہ معروف نشریاتی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس کی رپورٹس اور اس کی پالیسی پر بہت سارے گروہوں اور ملکوں کو گاہے گاہے شکایت ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے اثرات غیر معمولی ہیں اور کبھی بھی 'بی بی سی' کو اپنی رپورٹس پر مختلف طبقات کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کے باوجود اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جو برطانیہ کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دفتر وائٹ ہاؤس کی طرف سے حالیہ دنوں میں کرنا پڑا ہے۔
سابق مشیر کی تیار کردہ اس رپورٹ کے لیک ہونے کے بعد ڈائریکٹر جنرل 'بی بی سی' ٹم ڈیوی کے علاوہ 'بی بی سی' کے خبروں کے شعبے کے سربراہ ڈیبورا ٹرنس دونوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ان دو اعلی ذمہ داروں کے استعفوں کے باوجود صدر ٹرمپ کے 5 ارب ڈالر تک کے ہرجانے کے مقدمے کی دھمکی نے 'بی بی سی' کو ایک ایسے بحران میں لا ڈالا ہے جس کا پچھلی کئی دہائیوں سے کبھی 'بی بی سی' کو سامنا نہیں کرنا پڑا۔
سابق بی بی سی مشیر نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ 'بی بی سی' کا تعصب اداراتی سطح کا ہے۔ پیر کے روز برطانوی قانون سازوں کی ایک کمیٹی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق مشیر نے کہا ہمیں بہت واضح ہونا چاہیے کہ 'بی بی سی' کے کارکن حقیقی پروگراموں میں اور حتیٰ کہ غیر حقیقی پروگراموں میں بھی پیشہ ورانہ بنیادوں پر کمال کام کرتے ہیں اور میں اس سلسلے میں کہہ سکتا ہوں کہ ویسٹ منسٹر سے باہر کے لیے سیاسی رپورٹنگ بالعموم مثالی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں تک میرے رپورٹ کے لکھنے کا تعلق ہے میرا یقین ہے کہ نظام میں کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جن کی وجہ سے 'بی بی سی' کو اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا انہوں نے اپنی رپورٹ ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اور میڈیا ریگولیٹرز کو بھی بھیجی ہے۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ 'بی بی سی' کا ادارہ ان ایشوز کو اچھے انداز سے ڈیل کر سکے جن میں تعصب کی بات کی جاتی ہے۔ جو چیز میں نے بار بار دیکھی ہے وہ 'بی بی سی' کے ایڈیٹروں کی سطح پر کچھ تبدیلیوں کا ہوجانا تھا۔ یہ مجھے لگا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی خواہش نہیں ہے کہ جو غلط ہوا ہے اس کی اصلاح کی جائے۔ خواہ اس کے مضمرات کتنے ہی گہرے ہوں۔
پریسکاٹ ایک سابق صحافی ہیں جو بعد ازاں کارپوریٹ ایڈوائزر بن گئے اور 'بی بی سی' کے لیے بھی ایڈوائزر رہے۔ تاکہ 'بی بی سی' کو ایڈیٹرز اور 'بی بی سی' کی سٹینڈرڈز کمیٹی کو ہدایات دے سکیں۔ انہوں نے حالیہ دونوں مستعفی ہونے والے ذمہ داروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے 'بی بی سی' کے بورڈ کے غیر انتظامی رکن روبی گب کے بارے میں کہا کہ میں نے ان کے ساتھ کسی ملی بھگت کے ذریعے رپورٹ تیار نہیں کی ہے۔ یہ بات غلط ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ میرا نظریاتی اعتبار سے روبی گب ہم خیال نہیں ہے۔ میں سینٹرسٹوں کا باپ ہوں۔