امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اخوان المسلمون کو ''غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ''کے طور پر درج کرنے کے اعلان نے عالمی سطح پر جماعت کی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔جبکہ اس فیصلے نے جماعت کے اندر تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے، کیونکہ اس سزا کے اثرات اخوان کے تنظیمی نیٹ ورک اور اس کے مالیاتی اداروں پر امریکہ، مصر، اردن اور لبنان میں مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قانونی دفاتر کی خدمات لینے کی تیاری:
العربيہ ڈاٹ نیٹ /الحدث ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق جماعت اخوان امریکی فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بین الاقوامی قانونی دفاتر کو ہائر کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے اور اسے ہر ممکن طریقے سے منسوخ کروایا جا سکے۔ کیونکہ یہ فیصلہ امریکہ میں جماعت کی 29 تنظیموں اور اداروں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے نفاذ سے ان کے خلاف قانونی کارروائی، مالیات کی منجمدگی اور املاک کی ضبطی ممکن ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکہ میں اخوان کے زیر انتظام ادارے، جنہیں جماعت منجمد ہونے کے خدشے سے تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے، اس میں شمالی امریکہ کی اسلامی تنظیم، اسلامی روابط عامہ کونسل، اسلامی طلبہ تنظیم، امریکی اسلامی تعلقات کونسل، عالمی اسلامی فکری کونسل، اسلامی بزنس مین ایسوسی ایشن، عرب نوجوانوں کی اسلامی ایسوسی ایشن، شمالی افریقہ فقہ کونسل اور شمالی ڈلاس کی اسلامی تنظیم شامل ہیں۔
امریکہ میں جماعت کے قائدین :
ذرائع کے مطابق جماعت اخوان اپنے قائدین کے ذریعے امریکہ میں بھی سرگرم رہی ہے، جہاں انہوں نے سابقہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے۔ ان میں '' م ،ایف ''شامل ہیں، جو مصری نژاد امریکی ہیں ،انہوں نے قانونی اور حقوقی مشاورت کی ایک کمپنی قائم کی ہے، جس نے امریکی اداروں میں جماعت کے معاملات اور کیسز کو فروغ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ''ر،ح'' ایک بھارتی نژاد بھی شامل ہیں، انہیں اسلامی تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے نمائندہ مقرر کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک اور بھارتی نژاد قائد ''ا،ب'' ہے ،جو بین المذاہب مکالمے کے امور کا مشیر تھا،،اخوان کا قائد ''ع،ع،ع'' امریکی اسلامی تنظیموں کے درمیان پالیسی سازی اور رابطہ کاری کے ذمہ دار تھے۔
امریکہ میں اخوان کے دیگر اہم قائدین میں اردنی نژاد امریکی ''س ،ا'' شامل تھے جو امریکی اسلامی تنظیموں کے لیے میڈیا پالیسی ترتیب دینے کے ذمہ دار تھے، سوڈانی نژاد امریکی ''ا،م،م'' جو صدارتی اور مقننہ انتخابات میں مسلم ووٹوں کے حصول کے لیے مہمات کے سربراہ تھے ،ڈلاس ریاست میں ان کا زبردست اثر و رسوخ تھا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ قائد ''م،ا'' نے انتخابی مہمات میں مشاورت فراہم کی اور حکام نے ان کی مالی بدعنوانی اور وال اسٹریٹ میں مشکوک اور خفیہ سرمایہ کاریوں میں ملوث ہونے کا پتہ چلایا۔
اسٹریٹجک تبدیلی
ذرائع کے مطابق محمود حسین کی قیادت میں ایک فرنٹ جو ترکی کے شہر استنبول سے جماعت کو چلاتی ہے،اس نے اس امریکی فیصلے کا تجزیاتی جائزہ تیار کیا اور اس کے مقابلے کی حکمت عملی مرتب کی ہے۔
اس نے کہا کہ اس فیصلے کو دہشت گردی کے خلاف معمول کے اقدام کے طور پر نہیں پڑھا جا سکتا بلکہ یہ ''امریکی اسٹریٹجک تبدیلی '' ہے جو قانون کی بجائے طاقت کو فوقیت دیتی ہے۔
فرنٹ نے مزید کہا کہ یہ اقدام سیاسی اسلام کی تحریکوں کو عوامی میدان سے ختم کرنے کی کوشش ہے اور یہ فیصلہ امریکی قانون کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں نشانہ بنائے گئے شعبوں کے منظم تشدد میں ملوث ہونے کے واضح اور عوامی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، بلکہ عام الزامات پر مبنی ہے جیسے کہ دہشت گردی کی حمایت اور امریکہ کے حلیف ممالک کے استحکام کو کمزور کرنا ۔
اسی طرح فرنٹ نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ اخوان کے خلاف عالمی جنگ کو بین الاقوامی شکل دینے کی کوشش کے مترادف ہے۔
دوسری جانب جماعت کا تیسرا فرنٹ جسے محمد منتصر بانی تحریک ''حسم'' چلاتے ہیں، اس نے ایک رسمی بیان جاری کیا اور کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ اسرائیل کی غزہ جنگ میں ناکامی اور جلاوطن منصوبے کی ناکامی کو چھپانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس لندن فرنٹ جس کی قیادت صلاح عبد الحق کرتے ہیں، اس نے ابھی تک اس فیصلے پر کوئی رد عمل نہیں دیا، لیکن اس نے جلدی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ اپنی کمپنیوں اور جائیدادوں کو بعض ممالک میں محفوظ بنایا جا سکے۔
اس نے قائدین ''ا،س'' اور ''ا،ف،ع'' جو یورپ میں اخوان کی سرمایہ کاری کے ذمہ دار ہیں،ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ جلدی سے جماعت کی جائیدادیں محفوظ کریں تاکہ ان پر فیصلے کے نفاذ کو روکا جا سکے۔