جنگ زدہ غزہ جہاں بیس لاکھ کے قریب فلسطینی اسرائیلی بمباری سے کی وجہ سے بے گھر ہو کر خیموں ۔یں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہیں منگل کے روز سرما کی دوسری بڑی بارش نے آگھیرا ہے۔ شدید بارش ان بے گھر فلسطینیوں کے خیمے اور پناہ گزہن کیمپ عملا سیلاب زدہ نظر آنے لگے۔
دید بارش کی وجہ سے خیموں کے اندر بھی پانی کھڑا ہو گیا اور فلسطینی پناہ گزینوں کی کی بڑی مشکل سے حاصل کردہ اشیائے خوردو نوش سے لے کر دیگر استعمال کی اشیا بشمول چلنے پھرنے اور سونے جاگنے کی جگہ سمیت سب کچھ اس بارشی پانی کی زد میں آگیا۔
یہ بے خانماں فلسطینی بار بار کی بمباری اور جبری نقل مکانی کے اسرائیلی احکامات کی وجہ سے کئی کئی بار بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔
پچھلے سال سرما کی بارشوں نے بھی ان لاکھوں کو بشمول بچوں اور عورتوں کے سردی میں ٹھٹھرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب جاری موسم سرما کی یہ دوسری بد ترین بارش تھی جس نے منگل کے روز خیموں کے گردو پیش سے لے کر خیموں کے اندر تک جل تھل کر دیا۔
دس اکتوبر سے بظاہر جنگ بندی جاری ہے لیکن اسرائیلی فوج جب اہے جہاں چاہے بمباری کر لیتی ہے۔ اس تازہ بارش سے ایک نئی مشکل میں گھری ایک کیمپ کی رہائشی ام احمد عودہ نے اپنی پریشانی اور مصائب کا اظہار اس طرح کیا' ابھی موسم۔سرما کی شروعات ہیں اور ہم پہلے ہی شدید بارش کی وجہ سے نہ صرف سردی سے ٹھٹھرنے والی صورت حال سے دوچار ہو گئے ہیں بلکہ سیلاب کی سی کیفیت کا بھی سامنا ہے۔'
امجد اشوا ایک مقامی این جی او کے سربراہ ہیں اور لوگوں کی دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا نے کہا بارش نے ان بے گھر افراد کے دو دو سال پرانے خیموں کی خراب حالت کو مزید نقصان پہنچا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا دو سال پہلے جو خیمے انہیں رہنے کے لیے دیے گئے تھے ۔ اب یہ بہت خستہ حال ہو چکے ہیں۔ لیکن لوگ بارش ہو یا اندھی انہی پھٹے ہوئے بوسیدہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ انہیں کوئی نیا خیمہ اس دوران نہیں دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش خیموں کے اندر تک برس کر گئی ہے۔ ان بے گھر افراد کی زندگی کو مزید بے حال کر دیا ہے۔
امجد الشوا نے کہا اس وقت کم سے کم بھی اگر نئے خیموں کی ضرورت ہے تو تین لاکھ خیمے تو فوری درکار ہیں ۔لیکن یہ انحصار خیموں کو غزہ تک پہنچنے دینے والوں پر ہے۔
غزہ کے شہری دفاع کے شعبے کا کہنا ہے کہ بار شوں کی وجہ سے ہزاروں خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ بارش موسلا دھار بلکہ تباہ کن تھی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ خیمے نشیب میں لگائے گئے تھے جو بارش میں مکمل طور پر بہہ گئے ہیں۔ ایک فیلڈ ہسپتال کو بھی بارش کے اس سیلابی پانی کی وجہ سے اپنا کام روکنا پڑا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کی طرف سے پیر کے روز کہا گیا تھا غزہ کے بے گھر لوگوں کو سرما کی شدت سے بچانے کے لیے سرما میں کارآمد اشیا کی ترسیل کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ لیکن غزہ میں امدادی سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کی تعداد انتہائی محدود ہے۔
یہی بات حماس کی حکومت کے ادارے اور حکام کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج غزہ میں سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حتی کہ جس چیز کی ترسیل جب چاہے روک دیتی ہے۔ حالانہ جنگ بندی معاہدے میں بلا رکاوٹ امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل کا طے پایا تھا۔ مگر اسرائیل اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
جبکہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کر رہا ہے۔ غلطی امداد تقسیم۔کرنے والی این نی اوز اور دوسرے اداروں کی ہے۔ نیز حماس یہ سامان خود لے جاتا ہے۔ حماس اسرائیلی دعوے کو مسترد کرتی ہے۔