فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر سرکوزی کے لیے سزا کو برقرار رکھا ہے۔ سابق صدر نے نچلی عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اعلیٰ ترین فرانسیسی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔
سابق صدر فرانس نکولس سرکوزی جنہیں سابق صدر ہونے کے باوجود کسی بھی قسم کا استثناء حاصل نہیں ہے اور وہ ایک عام آدمی طرح قانون کے سامنے بے بس ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے ناواجب مالی مدد حاصل کی تھی۔
فرانسیسی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کے مطابق سابق صدر نے سابق صدر سرکوزی نے 2012 میں اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی طور پر مالی معاونت حاصل کی تھی۔ اس پر حال ہی میں عدالت نے سزا سنائی تھی جس کے خلاف اپیل بھی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ کے روز مسترد کردی ہے۔
اس سے تقریبا ایک ماہ قبل سرکوزی کو ایک ماہ کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2024 میں بھی غیر قانونی طور پر فنڈنگ حاصل کی تھی۔ اب جج نے ان کی ایک سال کے لیے غیر حراستی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ اس سزا میں سے نصف سزا معطل ہے۔
سابق صدر کے وکلا نے کہا ہے کہ ان کے 70 سالہ مؤکل اس اکیس کو یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خیال رہے فرانس کے سابق صدر سرکوزی پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے 2007 میں لیبیا سے بھی مالی مدد حاصل کی تھی۔
-
بل گیٹس نے 5 کتابیں تجویز کر دیں ... یہ آپ کا دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیں گی !
ان میں سے ہر ایک کسی اہم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے
بين الاقوامى -
بنگلہ دیش : سزا یافتہ وزیر اعظم حسینہ واجد کے بینک لاکر سے 10 کلو سونا برآمد
بنگلہ دیش کے انسداد بد عنوانی کے حکام نے بنگلہ دیش کی عدالت سے سزا یافتہ سابق وزیر ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ سوڈان جنگ رکوائیں، سوڈانی آرمی چیف کا امریکی صدر سے مطالبہ
سوڈان کی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ...
بين الاقوامى