ٹرمپ سوڈان جنگ رکوائیں، سوڈانی آرمی چیف کا امریکی صدر سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوڈان کی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈانی قوم میں جاری جنگ رکوانے میں کرداد ادا کریں۔ سوڈان کی یہ جنگ سوڈانی فوج کے خلاف نیم فوجی دستے 'ریپڈ سپورٹ فورس' اپریل 2023 سے لڑ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوڈان میں جنگ بندی کرانے کے لیے بدھ کے روز اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاکہ سوڈان میں جاری المیے کو روکنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ ان سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ میں اس معاملے کو دیکھوں کیونکہ وہاں پر بہت سنگین صورتحال ہے۔

سوڈان کے آمری چیف نے کہا ہے کہ ٹرمپ ہی وہ لیڈر ہیں جن پر سوڈان کے لوگ متفق ہو سکتے ہیں اور ٹرمپ ہی ایسا فیصلہ کن اور براہ راست کردار ادا کر کے اس تصادم کو رکوا سکتے ہیں تاکہ ہماری جاری پریشانیوں میں کمی ہو سکے

اس سلسلے میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے علاوہ مصر کے ساتھ مل کر ان دنوں اپنی کوششیں شروع کر چکے ہیں۔

سوڈان کے آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ سوڈان کی خودمختار ریاست اپنے لوگوں کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ان کو نسل کشی کرنے والی میلشیا کے جبر اور ظلم سے بچا سکیں۔ جو ہمارے ہر قبیلے کو تباہ کر رہی ہے۔ ان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ خیال رہے سوڈان کے علاقے دارفور میں نسل کشی جاری ہے۔

یاد رہے آرمی چیف البرہان کس حکومت کی نمائندگی کرتے ہی اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی سال امریکہ نے سوڈانی فوج کے خلاف لڑنے والی آر ایس ایف کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ ار ایس ایف پر سودان کے علاقے دارور اور مغربی حصے میں نسل کشی کے ارتکاب کا الزام لگایا جاتا ہے۔

اسی طرح جنرل عبدالفتاح کی اپنی فوج پر بھی الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ بھہ لوگوں پر مظالم کرےنے۔ انہی بلا امتیاز قتل کرنے اور شہری علاقوں کو بمباری کا نشانہ بناتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں