پانچ روزانہ استعمال ہونے والی دوائیں جو آپ کے دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں:ڈاکٹرزکی وارننگ

پانچ قسم کی ادویات کے بارے میں شواہد جو خاص احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکا کے معروف ترین امراضِ قلب کے ڈاکٹروں میں سے ایک ڈاکٹر دیمتری یارانوف نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ دل کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے تجویز کردہ ادویات لینے سے پہلے ضرور اچھی طرح غور کریں۔

اپنے کلینیکل تجربے کے برسوں اور سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے دوران ڈاکٹر یارانوف نے خود دیکھا ہے کہ مختلف علاج میں استعمال ہونے والی کچھ عام ادویات وقت کے ساتھ ساتھ خاموشی سے دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹر یارانوف نے پانچ اقسام کی ایسی ادویات کے شواہد پیش کیے ہیں ،جن کے استعمال میں خاص احتیاط ضروری ہے، اگر کوئی شخص دل اور خون کی نالیوں کی صحت کا خیال رکھتا ہو۔

سوزش کش ادویات

جن افراد کو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مسائل کا سامنا ہو، ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن جو بھی شخص باقاعدگی سے نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلامیٹری ادویات استعمال کرتا ہے، اسے محتاط رہنے اور اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے۔

کیموتھراپی کی ادویات

اگرچہ کینسر کے علاج بے شمار زندگیوں کو بچاتے ہیں، لیکن کچھ کیموتھراپی ادویات جیسے ڈوکسوروبیسن اور ٹراسٹوزوماب دل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
یارانوف کی وضاحت کے مطابق یہ ادویات وقت کے ساتھ دل کی عضلہ کو کمزور کر دیتی ہیں، جس سے دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

محرک ادویات

محرک ادویات جو عام طور پر توجہ کی کمی اور بیش فعالی (ADHD) کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہیں،ان میں ایمفیٹامینز شامل ہوتے ہیں جو بیداری اور توجہ میں اضافہ کرتے ہیں۔لیکن یارانوف کا کہنا ہے کہ یہ ادویات دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہیں اور بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں۔اگر کسی شخص کو پہلے سے دل کا مسئلہ ہو تو ان ادویات کا اثر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بے ترتیبیِ ضرباتِ قلب (Arrhythmia) اور حتیٰ کہ دل کے دورے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔
اسی طرح محرکات کا غلط استعمال یا بغیر نگرانی کے استعمال شدید ضمنی اثرات کا باعث بن سکتا ہے، جیسے دل کی دھڑکن کا بے حد بڑھ جانا، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور لت پڑ جانا۔

ذیابیطس کی ادویات

ذیابیطس کا علاج عام طور پر عمر بھر ادویات لینے پر مشتمل ہوتا ہے۔یارانوف کا کہنا ہے کہ کچھ پرانی نسل کی ذیابیطس ادویات—جیسے روزِیگلیٹازون ،دل کے فیل ہونے (Heart Failure) کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ ادویات خون میں شکر کی مقدار کم کرنے میں مدد کرتی ہیں، لیکن دل پر ان کے منفی اثرات کی وجہ سے بہت سے ماہرین اب نئی ادویات کی سفارش کرتے ہیں جو دل اور خون کی نالیوں کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔

ناک کھولنے والی ادویات

نزلہ زکام اور الرجی تکلیف دہ بیماریاں ہیں، اسی لیے بہت سے لوگ بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات کا استعمال کرتے ہیں، جن میں سڈوایفیڈرن جیسے ڈی کنجیسٹنٹ شامل ہوتے ہیں تاکہ بند ناک اور دیگر علامات میں کمی لائی جا سکے۔یہ ادویات خون کی نالیوں کو سکیڑ کر کام کرتی ہیں، جس سے رکاوٹ کم ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بلڈ پریشر میں تیز اضافہ اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی بھی پیدا کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر یارانوف کے مطابق جن افراد کو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر یا کسی قسم کی دل کی بیماری کی تشخیص ہو چکی ہو، انہیں چاہیے کہ یا تو ان ادویات سے مکمل پرہیز کریں یا پھر صرف اپنے معالج سے مشورے کے بعد انہیں استعمال کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر معمولی محسوس ہونے والی علامات بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں ،اگر دل کی کارکردگی پہلے ہی متاثر ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں