بدعنوانی کا مقدمہ: بنگلہ دیش نے برطانوی قانون ساز ٹیولپ صدیق کو غیر حاضری میں سزا سنا دی

ٹیولپ نے فیصلہ مسترد کر دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

استغاثہ نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے برطانوی قانون ساز اور سابق وزیر ٹیولپ صدیق کو غیر حاضری میں پیر کے روز بدعنوانی کے مقدمے میں دو سال قید کی سزا سنا دی۔ یہ مقدمہ مبینہ طور پر ایک پلاٹ کو غیر قانونی طریقے سے اپنے نام کرنے سے متعلق تھا۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور صدیق کی خالہ شیخ حسینہ واجد کو غیر حاضری میں پانچ سال قید اور ان کی بہن ریحانہ کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں بدعنوانی کے دیگر مقدمات میں مشترکہ طور پر 21 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

جنوری میں حسینہ سے مالی روابط کی جانچ پڑتال ہوئی جس کے بعد صدیق نے برطانیہ کی وزیر کی حیثیت سے مالی خدمات اور انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مقدمے کی سماعت کا عمل "ناقص اور مُضحکہ خیز" تھا۔

صدیق نے عدالت کو 'کینگرو کورٹ' قرار دے دیا

صدیق نے کہا ، "اس کینگرو کورٹ کا فیصلہ اتنا ہی قابلِ پیش گوئی ہے جتنا یہ بلاجواز ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس نام نہاد 'فیصلے' کے ساتھ وہی توہین آمیز سلوک ہو گا جس کا یہ مستحق ہے۔"

صدیق کی لیبر پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ انہیں اس مقدمے میں مناسب قانونی کارروائی تک رسائی حاصل نہیں ہے اور انہیں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

ترجمان نے کہا ، "کسی کو بھی کسی بھی مقدمے میں قانونی نمائندگی کا حق ہمیشہ ملنا چاہیے جب ان کے خلاف الزامات عائد کیے جائیں۔ چونکہ اس مقدمے میں ایسا نہیں ہوا تو ہم یہ فیصلہ تسلیم نہیں کر سکتے۔"

برطانیہ کا بنگلہ دیش کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے۔

نئی آبادی کے لئے مختص کردہ زمین

تازہ ترین مقدمے میں استغاثہ نے بتایا کہ سیاسی اثر و رسوخ اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے دارالحکومت ڈھاکہ کی زمین غیر قانونی طور پر مختص کی گئی جس کا رقبہ تقریبا 13،610 مربع فٹ (1264 مربع میٹر) ہے۔

انہوں نے کہا کہ تین طاقتور مدعا علیہان صدیق، حسینہ اور ریحانہ نے حسینہ کے بطورِ وزیر اعظم دورِ حکومت میں پلاٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

عدالت نے بتایا کہ ان تینوں میں سے ہر ایک پر 100،000 بنگلہ دیشی ٹکا (820 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور ادائیگی میں ناکامی کے نتیجے میں چھ ماہ کی اضافی قید برداشت کرنا ہو گی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ڈھاکہ میں رہائش اور آبادی کا دباؤ کم کرنے کی غرض سے یہ زمین ایک نئی آبادی کی تعمیر کے لئے استعمال ہونا تھی۔

اس مقدمے میں چودہ دیگر افراد پر بھی الزام عائد کیا گیا تھا اور انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں