شمالی دارفور میں بچوں کے قتل عام، اجتماعی زیادتیوں اور جنگی جرائم کی لرزہ خیز تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سوڈانی ڈاکٹروں کی ابتدائی کمیٹی سے وابستہ ایک خاتون ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک پچیس ہزار سوڈانی بچے مارے جا چکے ہیں اور شمالی دارفور کی شہر الفاشر سے فرار کے دوران پینتالیس کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

امراض باطنہ اور وبائی امراض کی ماہر ادیبہ ابراہیم السید نے ایک سوڈانی میڈیا کو بتایا کہ پیدائش سے لے کر سولہ سال تک کی عمر کے پچیس ہزار بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 566 بچے شدید زخمی حالت میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسزکے عناصر نے الفاشر سے طویلہ کی جانب فرار کے دوران پینتالیس بچوں کو جنسی حملوں اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق آٹھ سو ایسے بچے طویلہ پہنچے ہیں جو اپنے خاندانوں سے جدا ہو چکے ہیں اور ان میں سے بہت سے بچے غذائی قلت اور شدید صدمات کا شکار ہیں کیونکہ انہوں نے راستے میں سفاکیت کے مناظر دیکھے۔ طویلہ کے علاقے میں تنظیم ڈاکٹربلاحدود نے جسمانی تشدد کا شکار بچوں کا علاج کیا۔

اسی سلسلے میں ایمسٹی انٹرنیشنل نے دارفور کے علاقے الفاشر کی سرحد پر واقع زمزم کیمپ سے ہولناک تفصیلات جاری کی ہیں۔ تنظیم کے مطابق ریپڈ سپورٹ فوسز کے اہلکاروں نے جان بوجھ کر شہریوں کو قتل کیا، لوگوں کو یرغمال بنایا، مساجد اور سکولوں کو لوٹا اور طبی مراکز تباہ کر دیے۔

تنظیم نے ان بھیانک خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ طور پر جنگی جرائم قرار دیا اور اپنے رپورٹ میں مطالبہ کیا کہ ان اقدامات کی فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے طور پر دیکھا جا سکے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاو نے کہا کہ الفاشر میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے ہر ممکن راستہ تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سودان میں جاری بحران اس وقت دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سوڈان کی جنگ ختم کرانے میں کردار ادا کرے یا کم از کم ایک انسانی فائر بندی کی کوشش کی جائے تاکہ بے گناہ جانیں بچائی جا سکیں۔ العربیہ اور الحدث کی ٹیم نے شمالی دارفور کے شہر الفاشر سے تقریباً ایک ہزار بے گھر خاندانوں کی ریاست شمال میں واقع شہر الدبہ آمد کی تصاویر ریکارڈ کیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بیشتر متاثرین توپ خانے کی گولہ باری، محاصرے اور جھڑپوں کے باعث شدید انسانی مشکلات اور سنگین زخمیوں سے دوچار ہیں۔

سیاسی سطح پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود سوڈان کے مسئلے کے حل میں براہ راست کردار ادا کررہے ہیں اور ان کے بقول وہ واحد رہنما ہیں جو یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب نائب صدرِ مجلسِ خودمختاری ملک عقار نے کہا کہ سوڈان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے لیے قومی ارادے کا یکجا ہونا اور ایک واضح وژن ضروری ہے جو پائیدار امن، قومی وحدت اور ایک منصفانہ ریاست کی بنیاد ڈالے۔

جنوبی دارفور کے امن اور بقائے باہمی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ سماجی امن کسی بھی سیاسی تبدیلی کی بنیاد ہوتا ہے اور دوسرے کو قبول کرنا اور نفرت انگیز بیانیے سے گریز کسی بھی قومی منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں