امریکا تحقیق میں بندروں کے استعمال کو محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سائنسی مقاصد کے لیے جانوروں کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ بعض علاجوں کی جانچ کے لیے بندروں پر کی جانے والی تجربات کو محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے سائنسی مقاصد کے لیے جانوروں کے استعمال میں کمی کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ایف ڈی اے کے سربراہ مارٹی مکاری نے ایک بیان میں کہا، "جدید سائنسی ترقی ہمیں ادویات کی سلامتی کا جائزہ لینے کے لیے زیادہ مؤثر اور انسان دوست طریقے فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت کچھ تجربات، جو مخصوص بندر اقسام پر کیے جاتے ہیں تاکہ مخصوص مونوکلونل اینٹی باڈیز کی فروخت سے پہلے ان کی حفاظت جانچی جائے، انہیں ختم یا کم کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہ دیگر طریقوں—جن میں کمپیوٹر ماڈلنگ بھی شامل ہے—کو اپنایا جا سکتا ہے۔یہ اینٹی باڈیز جو کسی خاص بیماری کے علاج کے لیے خاص طور پر تیار کی جاتی ہیں، سرطان اور دیگر امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔

مکاری جنہوں نے اپریل میں جانوروں پر تجربات میں کمی لانے کا عزم ظاہر کیا تھا، کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تبدیلی "ادویات کو مارکیٹ میں لانے کے لیے درکار وقت بھی کم کر سکتی ہے اور تحقیق و ترقی کے اخراجات میں بھی کمی لا سکتی ہے۔

اس اعلان کو جانوروں کے تحفظ کی تنظیموں نے بھرپور پذیرائی دی۔تحقیق میں مختلف اقسام کے جانور استعمال ہوتے ہیں، جن میں سب سے زیادہ چوہے شامل ہیں، لیکن اس کے علاوہ مکاک بندر اور کتے بھی استعمال کیے جاتے ہیں،خصوصاً اعصابی امراض، قوتِ مدافعت سے متعلق تحقیق میں، اور ویکسین و ادویات کی افادیت و سلامتی کے تجربات میں بھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں