ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ریپڈ سپورٹ فورسز پر زمزم کیمپ میں "جنگی جرائم" کے ارتکاب کا الزام

گذشتہ موسم بہار میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں دارفور میں واقع کیمپ سے چار لاکھ سے زیادہ شہری فرار ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے سوڈان میں رواں سال کے اوائل میں الفاشر کی سرحد پر واقع زمزم کیمپ پر رپیڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملے کے دوران کی گئی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائیاں “جنگی جرائم” کے زمرے میں آتی ہیں۔ تنظیم نے یہ بات عینی شاہدین کی تازہ ترین گواہیوں کی بنیاد پر کہی۔

اس کیمپ میں حملے سے قبل لگ بھگ دس لاکھ افراد مقیم تھے، جن پر آر ایس ایف نے گذشتہ موسم بہار میں اُس جنگ کے دوران حملہ کیا جو پچھلے دو برس سے ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈانی فوج کے درمیان جاری ہے۔

تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ریپڈ سپورٹ فورسز نے شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کیا، انھیں یرغمال بنایا اور مساجد، اسکولوں اور طبی کلینکوں کو لوٹ کر تباہ کیا” ... یہ بات 29 افراد کی گواہیوں پر مبنی ہے، جن میں عینی شاہدین، متاثرین کے لواحقین اور صحافی شامل ہیں۔

تنظیم کی رپورٹ اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں چار لاکھ سے زیادہ شہریوں کو کیمپ سے فرار ہونا پڑا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ “ان خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔”

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق 11 سے 13 اپریل کے درمیان “ریپڈ سپورٹ فورسز نے دھماکہ خیز مواد استعمال کر کے کیمپ پر حملہ کیا اور گھنی آبادی والے علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ کی۔”

تنظیم کی سکریٹری جنرل، انییس کالامار نے کہا کہ “زمزم کیمپ میں بھوک اور مایوسی کا شکار شہریوں پر ریپڈ سپورٹ فورسز کا یہ ہول ناک اور دانستہ حملہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ انھیں انسانی جان کی کوئی پروا نہیں۔”

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تجزیے کے مطابق 16 اپریل کی سیٹلائٹ تصاویر میں وہاں نئے گڑھوں کی موجودگی دیکھی گئی جو پہلے نہیں تھی ... اور یہ “وسیع پیمانے پر دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال” کی نشان دہی کرتی ہیں۔

رپورٹ میں ان افراد کی گواہیاں بھی شامل ہیں جو اس حملے سے بچ نکلے، جس میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔

یونس (ایک فرضی نام) "زمزم ایمرجنسی روم" (امدادی سرگرمیوں کے لیے قائم ایک مقامی گروپ) میں رضا کار ہے، اس نے بتایا کہ “صورتِ حال انتہائی خراب تھی۔ ہمیں گولہ باری کا منبع معلوم ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہر طرف سے حملہ ہو رہا تھا۔”

ایک خاتون سعدیہ نے بیان کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجو اس کے محلے میں گاڑیاں چلا رہے تھے، جو زمزم کے مرکزی بازار سے زیادہ دور نہیں۔ “پھر گاڑی کی چھت کے ایک چھوٹے سوراخ سے ایک جنگجو نکلتا اور سڑک پر نظر آنے والے کسی بھی شخص پر فائر کھول دیتا۔”

زمزم کیمپ الفاشر شہر کے نواح میں واقع ہے، جو گذشتہ اکتوبر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم ایک لاکھ افراد فرار ہونے پر مجبور ہوئے، جن میں سے زیادہ تر مغرب میں 70 کلومیٹر دور واقع شہر طُویلہ میں بے گھر زندگی گزار رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں