"کیا دنیا سے مرد ختم ہو جائیں گے؟… تحقیقات نے پھر سے بحث چھیڑ دی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ دنوں سائنسی حلقوں اور میڈیا میں ایک پرانا سوال دوبارہ سامنے آیا : کیا مردانہ جنس طے کرنے والا کروموسوم Y آہستہ آہستہ ختم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے؟

اس حوالے سے "سائنس الرٹ" ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابقY کروموسوم نے 30 کروڑ برس کے دوران اپنی اصل جینی ساخت کا تقریباً 97 فی صد حصہ کھو دیا ہے۔ اس کی بنیاد پر بعض ماہرین یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ آئندہ چند لاکھ سالوں میں اس کا کردار ختم ہوسکتا ہے۔ تاہم ارتقائی حیاتیات کی ماہر جینی گریوز، جن کی تحقیق نے دو دہائیاں پہلے عالمی بحث چھیڑی تھی، کہتی ہیں کہ اس کا مطلب مردوں کا خاتمہ نہیں۔ ان کے مطابق یہ محض ایک ارتقائی امکان ہے، کوئی عملی خطرہ نہیں۔ وہ کہتی ہیں “مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لوگ ساٹھ لاکھ سال بعد مردوں کے ختم ہونے سے ڈرتے ہیں، جب کہ ہم سو سال بعد انسانیت کے وجود کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے!”

تحقیقی مثالیں بتاتی ہیں کہ Y کروموسوم کا ختم ہونا مردانہ نسل کے خاتمے کے مترادف نہیں۔ کچھ جان دار پہلے ہی بغیر Y کے زندہ ہیں اور نسل بڑھا رہے ہیں۔ مثلاً Ellobius نامی خلد نما چوہوں میں جنس طے کرنے والے جین کسی اور کروموسوم پر منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ Tokudaia چوہوں میں Y کی جگہ ایک نیا کروموسوم کام انجام دے رہا ہے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جینز اپنی ذمہ داریاں دوسرے مقامات پر منتقل کر کے بھی تولید کا عمل برقرار رکھ سکتے ہیں۔

گریوز کے مطابق ممکن ہے انسانوں میں بھی کہیں کوئی متبادل جین موجود ہو، مگر چونکہ جینیاتی مطالعات اس مقصد کے لیے خاص نہیں ہوتے، اس لیے اس کا معلوم ہونا آسان نہیں۔

اس موضوع پر دو بڑے سائنسی نظریات سامنے آئے ہیں :

پہلا : بتدریج زوال

گریوز کے مطابق Y کروموسوم مسلسل سکڑ رہا ہے اور آخرکار اس کی جگہ کوئی نیا جینی نظام لے سکتا ہے۔ ان کے بقول اس میں غیر فعال جین کی تعداد زیادہ ہے۔

دوسرا : طویل استحکام

ایم آئی ٹی ( (MITکی جین ہیوز کے مطابق Y کروڑوں سال سے مستحکم ہے اور اس نے 2.5 کروڑ سال میں تقریباً کوئی جین نہیں کھویا۔ ان کا کہنا ہے کہ Y پر موجود جین پوری جسمانی کارکردگی کے لیے اہم ہیں، اس لیے فطرت انہیں ختم ہونے نہیں دے گی۔

ابتدائی ارتقائی مراحل میں Y بھی X جیسا تھا اور تقریباً 800 جین رکھتا تھا۔ مگر جنس طے کرنے کی ذمہ داری ملنے کے بعد اس کی جینی تبادلے کی صلاحیت محدود ہو گئی، جس سے یہ آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا گیا۔ آج اس کے صرف 3 فی صد قدیم جین باقی ہیں، مگر یہ کمی مستقل رفتار سے نہیں ہوئی، اس لیے اس کے مکمل خاتمے کا اندازہ محض ایک مفروضہ ہے۔

ماہرین کا مجموعی اتفاق ہے کہ مرد نسل کا مستقبل محفوظ ہے۔ اگر Y کبھی ختم بھی ہوا تو فطرت کوئی دوسرا جین جنس طے کرنے کے لیے سامنے لے آئے گی، جیسا کہ کئی جان داروں میں پہلے ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں