اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم یونیسکو نے ''مصری کشری ''کو انسانی غیر مادی ثقافتی ورثے کی 2025 کی نمائندہ فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔
مصری وزارتِ ثقافت نے بدھ کے روز جاری بیان میں بتایا کہ یہ فیصلہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ غیر مادی ثقافتی ورثے کی سرکاری کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
مصری وزیرِ ثقافت ڈاکٹر احمد فواد ہنو نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصری کشری کا اندراج مصر کے نام سے درج غیر مادی ورثے کے گیارہویں عنصر کے طور پر ہوا ہے۔ یہ نہ صرف مصری ورثے کی اہمیت کا ثبوت ہے بلکہ اس کی تخلیقی، متاثر کن اور مسلسل ترقی پانے والی حیثیت کی بھی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصری عوام نے صدیوں سے اس روایت کو محفوظ رکھا ہے۔
پہلی مصری ڈش کا عالمی اندراج
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ''مصری کشری ''کا اندراج مصریوں کی روزمرہ زندگی کی ثقافت میں دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے، جو قومی شناخت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ "کشری" پہلی مصری ڈش ہے، جسے باضابطہ طور پر درج کیا گیا ہے اور آنے والے برسوں میں مزید ایسی چیزوںکو بھی شامل کیا جائے گا جو سماجی اور ثقافتی روایات سے جڑی ہوئی ہیں، جنہیں نسل در نسل منتقل کیا جاتا ہے اور جو مصری معاشرے میں اشتراک اور تنوع کی روح کو ظاہر کرتی ہیں۔
وزیر ہنو نے مزید کہا : یہ اندراج مصر کی طرف سے اپنے ثقافتی ورثے کی دستاویزات اور حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت تمام ثقافتی عناصر کی حمایت جاری رکھے گی اور مقامی برادریوں، روایت کے حاملین اور اُن گروہوں کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرے گی، جو ان زندہ روایات کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اپنی طرف سے ڈاکٹر نہلہ امام وزیر ثقافت کی غیر مادی ورثے کی مشیر اور غیر مادی ثقافتی ورثے کے کنونشن میں مصر کی نمائندہ نے اندراج کے بعد حکومتی کمیٹی کے سامنے مصری وفد کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے "کشری… روزمرہ زندگی کی ڈش" کو عالمی ثقافتی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اندراج مصر کے اس مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مقامی برادریوں کے اندر روایت کے حامل افراد کے ساتھ اور اُن کے لیے کام کرتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نامزدگی کی فائل ان گروہوں اور افراد کے قریبی تعاون سے تیار کی گئی جو روزانہ اس ڈش کی تیاری کی روایت کو زندہ رکھتے ہیں، جس سے کشری کی تنوع، اس کی ثقافتی دولت اور معاشرتی ہم آہنگی کے ایک متحد عنصر کے طور پر اس کے کردار کو نمایاں کرنے میں مدد ملی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کامیابی ایک طویل محنت کا نتیجہ ہے ،جو خود روایت کے حاملین نے شروع کی، جنہوں نے نامزدگی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کشری کے ریستورانوں اور ہر اُس مصری خاتون کا شکریہ ادا کیا ،جو کشری بنانے کی روایت کو محفوظ رکھتی ہیں اور اسے اپنی اولاد تک پہنچاتی ہیں،یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ عالمی اعزاز سب کے مشترکہ کردار کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے تشخیصی کمیٹی کا اس فائل کے جائزے کے لیے وقت اور کوششیں صرف کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کنونشن سیکریٹریٹ کے مسلسل تعاون کی قدر کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ مدد مصر کی صلاحیت کو اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور تحفظ کے لیے جاری کوششوں میں مزید مضبوط کرتی ہے۔