ایرانی حکام نے نوبیل امن انعام یافتہ اور انسانی حقوق کی سرگرم رہنما نرگس محمدی کو جمعہ کے روز دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
نرگس کے فاؤنڈیشن کے مطابق نرگس محمدی کو ایرانی سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں نے خسرو علیکردی جو حال ہی میں اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے تھےکی یادگاری تقریب کے دوران حراست میں لیا۔
یہ واضح نہیں کہ انہیں ایران میں کس مقام پر گرفتار کیا گیا۔
نرگس محمدی، جو ایران کی سب سے نمایاں انسانی حقوق کی وکیلوں میں شمار ہوتی ہیں، کو 2023 میں نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ گذشتہ دو دہائیوں کا زیادہ تر وقت انہوں نے تہران کی بدنامِ زمانہ ایوین جیل میں گزارا، جہاں حکومت کے ناقدین کو رکھا جاتا ہے۔
دسمبر 2024 میں ایرانی حکام نے ان کی قید تین ہفتوں کے لیے معطل کی تھی تاکہ وہ اپنی سرجری سے صحت یاب ہو سکیں۔
نرگس محمدی کو جلد ہی دوبارہ جیل منتقل کیے جانے کی توقع تھی، جہاں وہ مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزائیں بھگت رہی ہیں۔ انہیں قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں اور ریاست مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے کے الزامات کا سامنا ہے۔
گذشتہ ایک سال میں وہ مسلسل اپنی سرگرمی جاری رکھے ہوئے تھیں اور ایران میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر عالمی فورمز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔